خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 907
خطبات طاہر جلد ۱۱ 907 خطبه جمعه ۱۸ دسمبر ۱۹۹۲ء ہیں اور آئندہ آنے والی نسلوں کو تباہ کرنے کے لئے تیار بیٹھے ہیں اُن سے متعلق ایک احمدی ایک دردمندانہ اپیل کرتا ہے۔سیکرٹری اشاعت اس اپیل کو پسند کر کے علماء کو دکھا کر جائزہ لینے کے بعد تسلی سے اس کو شائع کروا کر اساتذہ میں تقسیم کرتا ہے تو کم سے کم ان تک پیغام پہنچے گا کہ ہمارے ہمدرد کچھ لوگ ایسے ہیں جو خالصہ ہماری ہمدردی سے کچھ نیک نصیحتیں کرتے ہیں۔سوسائٹی کی اصلاح ہونا بھی آپ کی کامیابی ہے۔سوسائٹی کی اصلاح کا لازماً مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ ضرور احمدی مسلمان ہو جائے۔اسلامی قدروں کے قریب آنے کا نام اسلام ہے جب یہ قدریں زیادہ بڑھ جائیں تو ان کا اندرونی طور پر دباؤ انسان کو اس مذہب کو قبول کرنے پر مجبور کرتا ہے جس مذہب سے وہ اس کی قدریں لے کر استفادہ کرتا رہا ہے۔پس انبیاء کی تاریخ جہاں تک میں نے قرآن کریم میں پڑھی ہے ان کا رجحان یہی تھا ، یہی ان کا دستور تھا ، یہی ان کی سنت تھی کہ نیکیاں پھیلاتے تھے اور جہاں نیکیاں قائم ہو جائیں وہاں نیکوں سے محبت پیدا ہونالازم ہے۔بغیر نیکیاں پھیلائے کسی چیز کی طرف دعوت دینا محض بھرتی کرنے کا نام ہے اس کا کوئی بھی فائدہ نہیں۔پس اس پہلو کو پیش نظر رکھتے ہوئے مختلف طبقات کو ایسی باتیں کہیں جن کی ان کو ضرورت ہے۔یہ تبلیغ کی ایک طرز ہے اور بھی بہت سے کام ہیں لٹریچر کے شعبے نے جو لٹریچر تیار کیا ہے اسے مختلف جگہوں تک پہنچانا جہاں شعبہ اشاعت کا کام ہے وہاں اصلاح وارشاد کے سیکرٹری کا یہ کام ہے کہ اپنے مبلغین کے اوپر نظر رکھے کہ کس کس ہتھیار کی ان کو ضرورت ہے۔اور وہ ہتھیار ان تک پہنچتا بھی ہے کہ نہیں اور کس کس سوال کا ان کو سامنا کرنا پڑتا ہے اس کا جواب ان کو آتا بھی ہے کہ نہیں۔کہاں کہاں اسلام اور احمدیت کے خلاف منظم طور پر ایک سازش پنپ رہی ہے اور کس طرح احمدی مخلصین کے ایمان پر ڈاکے ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے اس پر نظر رکھنا اس کے جوابات کی طرف کوشش کرنا مختلف دائمیین الی اللہ کی ضرورتیں پوری کرنے کے علاوہ ان کے لئے دُعا کرتے رہنا اور پھر یہ عمومی نظر رکھنا کہ میرے شعبہ میں گزشتہ سال کے مقابل پر اس سال میں کتنا اضافہ ہوا ہے۔اگر سو احمدی ہوئے تھے تو اس سال کتنے احمدی ہوئے ہیں اور آئندہ سال میں کتنے احمدی بنانے کی صلاحیت رکھتا ہوں۔اس میں بھی غیر معمولی دیانت داری کی ضرورت ہے کیونکہ بعض لوگ یہ دعوی کر دیتے ہیں جیسا کہ میں نے پہلے بھی ایک مرتبہ مثال دی تھی کہ دُعا کریں کہ میرے سو