خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 906 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 906

خطبات طاہر جلد ۱۱ 906 خطبه جمعه ۱۸ ردسمبر ۱۹۹۲ء میں شامل ہو گئے ہیں اور اب خدا کے فضل سے وہ کام شروع کر چکے ہیں کہ جس کے نتیجہ میں لازماً انہوں نے بڑھنا ہے ، پھولنا ہے پھلنا ہے، یہ وہ بنیادی کام ہے جو سیکرٹری اصلاح وارشاد کو کرنا چاہئے۔یہ کام نہیں ہے کہ جو تبلیغ کرنے والے ہیں وہ ان کے پھل اکٹھے کرے اور اپنی رپورٹ کی طشتری میں سجا کر کسی کو بھجوا دے اور سمجھے کہ میرا کام بہت عمدگی سے پورا ہو گیا۔یہ تو صرف ڈاکیے کا کام ہے سیکرٹری اصلاح وارشاد کا کام تو وہی ہے جو میں بتا رہا ہوں۔پھر اس کو جائزہ لینا چاہئے کہ سارے معاشرے میں کس قسم کے لوگ ہیں، کتنے مذاہب ہیں، کتنی کتنی قوموں کے لوگ بستے ہیں۔جب سے میں نے چارج لیا ہے میں نے ان پر نظر رکھتے ہوئے دن رات کام کیا ہے ایسا جس سے پہلے کی نسبت زیادہ قوموں تک احمدیت کا پیغام پہنچ رہا ہو یا قوموں کے علاوہ زیادہ مذہبوں کی طرف جماعت کا پیغام پہنچ رہا ہو؟ مختلف طبقات ہیں ان تک پیغام پہنچانے کے لئے میں نے کیا کوشش کی؟ اب طبقات کی بات ہے تو دیکھیں کہ صرف اساتذہ کا طبقہ تعلیم یافتہ ترقی یافتہ ممالک میں اتنا بڑا ہے کہ اگر کوئی سیکرٹری اصلاح وارشاد صرف اس طبقہ کو پیش نظر رکھ کر اپنا جائزہ لے کہ کیا کوششیں میں نے کی ہیں؟ کتنے خلا باقی ہیں، کیا چیزیں ہونے والی ہیں ؟ تو وہ کانپ اُٹھے کہ ہزار ہا کی تعداد میں سکول کے اساتذہ ہیں۔انگلستان میں بھی جہاں تک میرا خیال ہے پچاس ہزار سے تو لازماً زیادہ ہوں گے۔بہت بڑی تعداد ہے مجھے کوئی اندازہ نہیں اس لئے پچاس ہزار والی جو گنتی ہے اس پر بنا نہیں ہے یہ میں جانتا ہوں کہ بہت بڑی تعداد ہے۔اتنی بڑی تعداد ہے کہ ایک ایک احمدی کو تقسیم کریں تو کئی کئی استاد ہاتھ میں آئیں گے۔تو کام تو اتنا زیادہ پڑا ہے کہ سیکرٹری اصلاح وارشاد اس کام کا جائزہ لے کر پھر خدا سے دُعا کرتے ہوئے عاجزانہ کوششیں شروع کرے اور طبقے کو جماعت کی طرف متوجہ کرنے کے کوئی طریقے ڈھونڈے، ان کو سامنے رکھتے ہوئے کچھ اشتہار بنائے یا بنوائے اور ان کو بتائے کہ ہمارے پاس یعنی جماعت کے پاس اُن کے لئے کیا ہے۔نصیحت کا کوئی پیغام بھیجے۔ضروری نہیں ہوتا کہ تبلیغ براہ راست کھینچ کر بلانے والے کو کہتے ہوں تبلیغ پہنچانے کو کہتے ہیں اور پہنچانے کا مطلب ہر نیک بات پہنچانا ہے تبھی انبیاء صرف یہ دعوت نہیں دیا کرتے تھے کہ آؤ اور ہمارے ساتھ شامل ہو جاؤ بلکہ نیکیوں کے پیغام دیا کرتے تھے اور نیکیاں بانٹتے پھرتے تھے۔آجکل سکولوں میں جو بدیاں رواج پا گئی ہیں۔کئی قسم کے خوفناک جرائم وہاں راہ پکڑ گئے