خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 903 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 903

خطبات طاہر جلدا 903 خطبه جمعه ۱۸ دسمبر ۱۹۹۲ء کو کچھ نہ کچھ صلاحیتیں عطا ہوتی ہیں۔ پس قابلیت کا فیصلہ تو خدا نے کرنا ہے۔ یہاں قابلیت کا مضمون صرف اتنا ہے کہ جو کچھ ہے وہ لے کر حاضر ہو جاؤ جتنی بھی قابلیت ہے وہ پیش کر دو پس جب آپ اس کو امانت کے مضمون کے ساتھ ملا کر پڑھیں گے تو تب آپ کو سمجھ آئے گی کہ امانت کیا ہے۔ امانت سے وہ مراد نہیں ہے کہ جو تم میں طاقت نہیں ہے وہ بھی پیش کرو ورنہ خدا تمہیں پکڑے گا۔ انسان کی استعداد میں بھی امانت ہیں، اس کی تمام صلاحیتیں امانت ہیں ، اللہ کی امانت کا بوجھ اس پر اتنا ہی ڈالا جائے گا جتنی خدا نے اس کو صلاحیتوں کی امانت ودیعت فرمائی ہے۔ پس اس امانت کے ساتھ بیرونی امانت کا ایک تعلق اور رشتہ ہے ایک توازن قائم ہے۔ اس کے درمیان عدل قائ قائم ہے ، اللہ تعالیٰ عدل سے فیصلے فرماتا ہے۔ پس کسی کے لئے موقع نہیں کہ اس کا ضمیر اسے کچھ کے دے کہ تم پر جو ذمہ داری ڈالی گئی ہے وہ منصب تمہاری طاقت سے بڑھ کر ہے اس لئے اگر تم نے حق ادا نہ کیا تو مجرم بنو گے اس لئے اس کو چھوڑ دو۔ چھوڑنے کی بھی اجازت نہیں ہے۔ خدا نے جو سعادت بخشی ہے اسے قبول کرنا ہو گا کیونکہ یہ چھوڑ نا محمد رسول اللہ ﷺ سے رشتہ توڑنے کے مترادف ہے اور کوئی سچا مسلمان اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ ہاں امانت طاقت کے مطابق ہوگی جس قدر خدا نے توفیق بخشی ہے اس کے مطابق آپ کام کریں ۔ انناضرور کریں اور کوشش کریں کہ توفیق کی آخری حدود تک آپ کا کام پہنچ جائے اور آپ امانت کی ذمہ داریوں سے پورے کے پورے بھر جائیں ، آپ کا وجود اس پہلو سے مکمل ہو جائے کہ جو کچھ بھی خلا تھے وہ سارے بھر دیئے گئے ہیں جو آپ میں طاقت تھی اس کے مطابق آپ نے خدا کے حضور سب کچھ امانت کا حق ادا کرتے ہوئے پیش کر دیا پھر اللہ کے سپرد معاملہ ہے اللہ تعالیٰ احسان فرمانے والا ہے ، عفو کرنے والا ہے، مغفرت فرمانے والا ہے جانتا ہے کہ انسان کمزور ہے پھر جہاں جہاں کمزوریاں ہوں گی خلا ہوں گے ، جہاں بعض دفعہ ہم سمجھیں گے کہ ہم نے خدا کی خاطر کام کیا تھا مگر اپنی انا بیچ میں داخل ہوگئی، اپنے دکھاوے کی سرشت نے اس امانت کے حق کو گندہ کر دیا اور کئی قسم کے رخنے ہمارے کاموں میں پیدا کر دیئے۔ یہ تمام باتیں ہماری نظروں سے اوجھل رہتی ہیں ۔ قیامت کے دن خدا جس کے سامنے کھولے گا اسی کو معلوم ہوگا۔ پس یہ جو دوسرا مضمون ہے اس میں انکساری کے ساتھ دُعا کرنے کی ضرورت ہے اللہ تعالیٰ