خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 904 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 904

خطبات طاہر جلدا 904 خطبہ جمعہ ۱۸؍ دسمبر ۱۹۹۲ء فرماتا ہے کہ ہر شخص کو ہم نے ایسا بنایا ہے کہ اس کے اعمال اس کو زینت دکھائی دیتے ہیں، اپنے اعمال کو بہت خوبصورت سمجھتا ہے پھر ایک دن خدا کے حضور پیش ہونا ہے وہ بتائے گا کہ تمہارے اعمال کی حیثیت کیا تھی۔پس جب آپ سب کچھ کر بیٹھیں تو اس وقت بھی محفوظ مقام تک نہیں پہنچتے۔ہاں محفوظ مقام تک پہنچنے کی ایک کوشش ہے جو اپنی طرف سے بھر پور کر دی گئی۔محفوظ مقام پر وہی ہے جسے خدا محفوظ قرار دے دے۔انبیاء بھی بے حد بے چینی میں زندگی بسر کرتے ہیں۔امین ہوتے ہیں اس کے باوجود کہ وہ امانت کا حق ادا کرنے کی سرتوڑ کوشش کرتے ہیں ساری جان اس میں ہلکان کر دیتے ہیں پھر بھی بے چین رہتے ہیں کہ کوئی کمی نہ رہ گئی ہو ، کوئی کمزوری نہ ظاہر ہوگئی ہو۔جماعت کے عہدے داران اگر اس روح کے ساتھ کام کریں گے تو مجھے ادنیٰ بھی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی کمزوریوں سے مغفرت کا سلوک فرمائے گا ان کی پاک نیتوں کو پیار اور محبت کی نظر سے دیکھے گا اور ان کے اعمال میں ان کی کوششوں میں غیر معمولی برکت ڈالے گا۔جہاں بھی جماعت کے کچھ خدمت کرنے والے اس طرح پیار اور اخلاص سے خدمت کرتے ہیں ان کو ضرور برکت ملتی ہے۔یہی انگلستان کی جماعت کی ایک بچی کا میں نے ذکر کیا کہ اس کو خدا تعالیٰ پھل پر پھل دے رہا ہے اور جو انگریز بچیاں اس نے مسلمان بنا ئیں ہیں ان کے اوپر اس کی چھاپ دکھائی دیتی ہے۔وہی اخلاص وہی انکساری ، وہی دین میں بشاشت اور پھر آگے پیغام پہنچانے کا جذبہ۔ابھی دو دن ہوئے ہیں یہاں انگلستان کی جماعت کا ایک نوجوان مجھے ملا اس کے ساتھ ایک نیا احمدی تھاوہ بھی چہرے سے ہی نظر آتا تھا کہ بے حد فدائی اور سلسلے کا عاشق ہے اور ایمان کی پوری بشاشت اس کے چہرہ پر دکھائی دیتی تھی مجھے یہ معلوم کر کے بڑی خوشی ہوئی کہ یہ اس کا بنایا ہوا احمدی ہے۔اس کی دعوت سے احمدی ہوا ہے حالانکہ وہ لڑ کا خود بالکل نوجوان ہے، چھوٹی عمر کا ہے اور پھر اس نے بتایا کہ یہ ایک تو نہیں ہے آپ جب برمنگھم آئے تھے تو وہاں بھی میں نے ایک پیش کیا تھا وہ بھی اللہ کے فضل سے ایسا ہی ہے۔اور پھر مجھے مزید تحقیق سے پتا چلا کہ اس کے والد بد قسمتی سے احمدی ہونے کے باوجود بہت دور جاچکے ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے یا اس کے بزرگ دادا کی دُعائیں ہوں گی یا ماں کی دعائیں ہیں جو ان کے حق میں قبول ہوئیں کہ سارے ہی بچے اللہ کے فضل سے مخلص احمدی ہیں مگر یہ نو جوان تو بے حد عاشق اور دعوت الی اللہ میں ایسا فدا ہے کہ سب کچھ اس کا