خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 893
خطبات طاہر جلد اا 893 خطبه جمعه ۱۱ دسمبر ۱۹۹۲ء قرض ہے واپس ملے گا تجھ کو یہ سارا ادھار ( در ثمین صفحہ: ۱۵۱) تم اپنی مستقبل کی تقدیر بنا رہے ہو ۔ حقیقت یہ ہے کہ آج کا خائن عالم ہے جو کل کے مسلمانوں کی بربادی کا ذمہ دار ہے اور کل کا خائن عالم تھا جو آج کے مسلمانوں کی بربادی کا ذمہ دار ہے۔ اس خائن کو پکڑو، اگر تم اس خائن سے حساب لو گے تو خدا تعالی کی تقدیر تمہاری تائید میں اٹھ کھڑی ہو گی اور تمہارے مخالفوں سے حساب لیا جائے گا ورنہ تم تو خود حساب دینے کے مقام پر آکھڑے ہوئے ہو۔ ایک واقعہ نہیں دو واقعہ نہیں بار بار مساجد کی بے حرمتی کی گئی ان کو ظلموں کا نشانہ بنایا گیا ، عبادت کرنے والوں کو رستوں میں گھسیٹا گیا ، ان کو مارا گیا، ان کو اس بات کی سزادی گئی کہ کیوں تم خدا کی عبادت کر رہے تھے اور اب جب یہ سب کچھ ہو رہا ہے تو اچانک غیرت دینی اٹھ کھڑی ہوئی اور ساری دنیا میں شور برپا کر دیا گیا ہے کہ ہم مسجدوں کی بے حرمتی برداشت نہیں کر سکتے ۔ اپنے ہاتھوں سے کرتے رہے ہو اور کرتے ہو۔ کیا اس کا نتیجہ نکالا جائے گا کہ خدا تعالیٰ نے یہ فرمان جاری فرما دیا ہے کہ میری عبادتگاہوں کی بے حرمتی کا حق صرف مسلمانوں کو ہے؟ ساری دنیا میں ان کو کھلی چھٹی ہے جب چاہیں میری عبادت کے گھر کو مسمار کریں، برباد کریں ، قرآن کریم کو جلائیں گلیوں میں پھینکیں ۔ کسی اسلامی حکومت کا حق نہیں ہے کہ اس پر ان کو سرزنش کرے لیکن ہاں غیروں کو حق نہیں ہے کہ وہ خدا کا کوئی معبد تباہ کریں وہ جب کریں گے تو تمہیں جوابی کارروائی کا حق ہے تم کرو گے تو تمہاری اپنی چیز ہے کیوں نہ کرو؟ خدا کا گھر اور کس کا ہے تمہارا ہی ہے جو چاہو اس پر کر گز رو جیسے کہا گیا ہے کہ تو مشق ناز کر خون دو عالم میری گردن پر ۔ گویا خدا ان کو یہ کہتا ہے کہ میرے تقدس کو برباد کرتے رہو اس کا خون میں اپنی گردن پر لیتا ہوں میں تمہیں کہتا ہوں کہ جاؤ اٹھو اور جو مرضی کرو تم مالک ہو تمہاری چیز ہے جو چاہو کرتے پھرو۔ ہاں غیروں کو نہ کرنے دینا غیر کریں گے تو غیرت دکھانا۔ یہ اسلامی تعلیم ہے؟ یہ اللہ کی محبت پر مبنی تعلیم ہے؟ ہو ہی نہیں سکتا جاہلا نہ باتیں ہیں اور ان جاہلانہ باتوں کو تم نے برداشت کیا ہے اور قبول کیا ہے اور اپنا لیا ہے اپنی سنت کا حصہ بنا لیا ہے بنگلہ دیش میں ایک انگلی نہیں اُٹھی جس نے ان بد کرداروں اور ظالموں کو روکنے کی کوشش کی ہو ۔ پاکستان میں ایک انگلی نہیں اُٹھی جس نے اتنی مسجدوں کی شہادت کے وقت ان ظالموں اور بد کرداروں کو روکنے کی کوشش کی ہو لیکن بنگلہ دیش میں ایک شرافت ضرور ہے کہ بنگلہ دیش کے