خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 888
خطبات طاہر جلد ۱۱ 888 خطبہ جمعہ ا ار دسمبر ۱۹۹۲ء کبھی ڈھل نہیں سکتے اور وہ عمارتیں جو منہدم کی گئی ہیں ان عمارتوں نے منہدم ہو کر ہمارے قومی کردار کی تعمیر کو منہدم کر دیا ہے اور اب مشکل سے یہ تعمیر نو ہوگی۔بڑے بڑے زبر دست اور صحیح اور سچے تبصرے ان اخبارات میں آرہے ہیں اور سوائے چند ایک اخبارات کے جو انتہا پرستوں کے ہاتھ میں ہیں اکثر ہندوستانی اخبار میں ان واقعات کے خلاف بہت سخت تبصرے کئے ہیں لیکن افسوس ہے کہ ایسے مواقع پر مسلمان راہنماؤں کو عقل نہیں آتی اور کھلے بندوں مساجد سے اعلان کئے جارہے ہیں کہ اُٹھو جہاد کا وقت آگیا ہے برباد کر دو مٹا دو اور ان پر چڑھ دوڑو اور جوابی کارروائی کے لئے تیار ہو۔دہلی کی مسجد میں جو امام لیکچر دیتا ہے یا دوسری مسجدوں میں دیتا ہے اس کو پھر یہ لوگ عالمی مواصلاتی ذرائع سے ساری دنیا کو دکھاتے ہیں اور یہ ظاہر کرتے ہیں کہ دونوں طرف کی بات ہے صرف طاقتور اور کمزور کا جھگڑا ہے ورنہ تو کردار ایک ہے، نظریات ایک ہیں ایک دوسرے کے معاملات میں رد عمل ایک جیسے ہی ہیں ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں صرف یہ دیکھ لو کوئی طاقت ور ہے اور اس کا زیادہ داؤ چل گیا کچھ کمزور ہیں ان کا کم داؤ چلا ہے۔پاکستان میں کم مندر تھے اس لئے کم جلائے گئے ، کم ہندو تھے اس لئے کم زندہ آگ میں پھینکے گئے۔ہندوستان میں چونکہ یہ تعداد بہت زیادہ ہے اس لئے زیادہ تعداد میں سب کچھ ظاہر ہوالیکن افسوس، کچھ پاکستان کے اخبارات کو اس شدت کے ساتھ اور اس جلی قلم کے ساتھ ان خوفناک مظالم کی جو پاکستان میں بھی ہندوؤں پر توڑے گئے مذمت کرنے کی ان کو توفیق نہیں ملی۔بڑی شدت سے رد عمل ہونا چاہئے تھا۔مسلمان راہنماؤں کو اُٹھ کھڑے ہونا چاہئے تھا اور کہنا چاہئے تھا کہ تم نے عالم اسلام کے وقار کو ٹھیس پہنچائی ہے تم نے قرآن کی عزت پر ہاتھ ڈالا ہے، محمد رسول اللہ ﷺ کے اسوہ کو بدنام کرنے کی کوشش کی ہے ، ہم اپنے ملک میں ایسا نہیں ہونے دیں گے اگر ایسا ہوتا تو آج دنیا میں اسلام کا تاثر بالکل اور رنگ کا ہوتا اور اسلام دشمن طاقتوں کا تاثر بالکل اور رنگ کا ہوتا لیکن اب سچے ہو کر جھوٹوں کی طرح اپنے کردار کو گندہ کر دیا ہے اور یہ سب نحوست دراصل اس بات کی ہے کہ راہنماؤں میں نہ عقل کی روشنی ہے اور نہ تقویٰ کی روشنی ہے اور وہ اپنی قوم سے خیانت کر رہے ہیں، غلط مشورے دیتے ہیں، غلط راہنمائی کرتے ہیں اور جب کوئی مسئلہ ایسا پیدا ہوتا ہے کہ جب قوم کو صحیح راہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے تو غلط راستے پر ڈال دیتے ہیں مسلمان پے در پے ٹھوکر کھا رہا ہے۔اگر یہ بات غلط ہو اور وہ بچے مشورے دے رہے ہوں اور صحیح سمت پر قوم کو ڈال رہے