خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 84
خطبات طاہر جلد ۱۱ 84 خطبہ جمعہ ۳۱ / جنوری ۱۹۹۲ء حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کشفی طور پر اپنے نام کو آدھا عربی رسم الخط میں اور آدھا انگریزی رسم الخط میں لکھا ہوا دیکھا۔(تذکرہ صفحہ نمبر ۲۶) یہ ایک پیشگوئی تھی کہ کسی وقت آپ کا ایک ایسا خلیفہ کچھ عمر مشرق میں بسر کرنے کے بعد وہاں کے مرکز سے تعلق رکھتے ہوئے کچھ عمر کا حصہ مغرب میں بسر کرے گا۔یہ عرصہ کتنا ہوگا یہ اللہ بہتر جانتا ہے لیکن یہ پیشگوئی یقینی طور پر بتا رہی تھی کہ حضرت مسیح موعود کے کسی خلیفہ کو آپ کی نمائندگی میں ہجرت کرنی ہوگی اور انگلستان میں اس کو پناہ دی جائے گی ورنہ مسیح موعود علیہ السلام کا آدھا نام انگریزی میں لکھنے کا کوئی اور مفہوم سمجھ میں نہیں آسکتا۔پس یہ وہی برکت ہے مسیح موعود علیہ السلام کے خلیفہ کو پناہ دینے کی برکت جس کو خدا تعالیٰ نے مختلف رنگ میں مغرب کی جماعتوں کے لئے ظاہر فرمایا ہوا ہے اور فرماتا چلا جارہا ہے انگلستان اس بر اعظم کا حصہ ہے یہ برکتیں اس سارے براعظم پر پھیل رہی ہیں اور آج کا مبارک جمعہ جس نے یہ تقریب پیدا کر دی کہ ایک وسیع بر اعظم میں دور دراز کے لوگ عملاً امام وقت کے خطبہ کوئن بھی سکیں اور دیکھ بھی سکیں اور ایک گونہ بدنی شمولیت کا احساس اور لطف حاصل کر سکیں۔یہ بھی ہجرت کی برکتوں میں سے ایک برکت ہے۔جس کو خدا تعالیٰ نے یورپ کو عطا فر مایا۔جمعیت کا جو یہ آغاز ہوا ہے اس میں چونکہ جمعہ کا بہت گہرا تعلق ہے اور یہ تعلق میں بار بار بیان کر چکا ہوں اس لئے میں پھر نصیحت کرتا ہوں کہ جماعت اس سے حتی المقدور استفادہ کرے۔جہاں جہاں ممکن ہو وہاں با قاعدہ مراکز مقرر کئے جائیں۔امام مقرر کئے جائیں ان کی متابعت میں یہ خطبہ سننے کے بعد جو پیشگوئی کے رنگ میں پورا ہو رہا ہے اس لئے ہر گز سے ناجائز قرار نہیں دیا جا سکتا کہ اس خطبہ کو کوئی بھی اہمیت نہ دی جائے کیونکہ یہ واقعہ اور یہ نظام عظیم الشان پیشگوئیوں کا مصداق ہے کہ امام جماعت احمدیہ کا خطبہ براہ راست دور دراز علاقوں میں سُنا بھی جاسکتا ہے اور دیکھا بھی جا سکتا ہے۔پس میں سمجھتا ہوں کہ ایسا نظام قائم ہونا چاہئے کہ یہ خطبہ اگر با قاعدہ جمعہ کا وقت ہو تو اس رنگ میں سُنا جائے کہ با قاعدہ مراکز قائم ہوں وہاں ائمہ مقرر ہوں اور وہاں یہ خطبہ سننے کے بعد پھر سنت کی ادائیگی کے رنگ میں ایک مختصر خطبہ امام دے دے۔عربی کا مسنونہ خطبہ پڑھ سکتا ہے اور ضروری باتیں جو مقامی حالات کے مطابق کہنی ہیں مختصر کہہ دے اور پھر جمعہ کی باجماعت نماز کروائے۔اس رنگ میں اس خطبہ کا ان کے مقامی جمعوں کے ساتھ امتزاج ہوسکتا ہے لیکن پورا جمعہ