خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 85 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 85

خطبات طاہر جلد ۱۱ 85 59 خطبہ جمعہ ۳۱ /جنوری ۱۹۹۲ء میرے ساتھ وہاں نہیں پڑھا جا سکتا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ امام کے آگے ہونا اور بھی بہت سی ظاہری شرطیں ہیں جن کا پورا ہونا ضروری ہے اور میں یہ نہیں سمجھتا کہ یہ جائز ہوگا کہ جمعہ کی نماز میں وہ میرے ساتھ شامل ہو کر سمجھیں کہ ان کی باقاعدہ جمعہ کی نماز ہوگئی ہے۔اس لئے میں تاکیڈا یہ کہتا ہوں کہ خطبہ سنہیں اُس سے استفادہ کریں۔اس کے بعد مختصر خطبہ مسنونہ یا کچھ زائد دے کر اپنی نماز جمعہ پڑھیں۔اس طرح انشاء اللہ بہت ہی بابرکت نظام قائم ہو جائے گا۔جو آنحضرت ﷺ کی مقرر کردہ راہوں پر چلتے ہوئے اس زمانے کی برکتیں بھی حاصل کر رہا ہوگا۔اس کے علاوہ گھر میں جو خواتین اور بچے ہیں جن کے لئے یہاں پہنچنا ممکن نہیں ان کو تو یہ تاکید ہے کہ جس جس کو استطاعت ہے اگر ایک گھر کو استطاعت ہے تو وہ خود اپنے لئے ڈش خریدے جس کے ذریعے یہ خطبہ دیکھا اور سُنا جاسکے اور اگر ایک گھر میں استطاعت نہ ہو تو محلہ کے دو چار گھر مل کر خواہ جمعہ وہاں با قاعدہ ادا ہو یا نہ ہو کوشش کریں کہ وہ خود بھی شامل ہوں اور اپنے بچوں کو بھی شامل کریں۔چھوٹی عمر کے بچوں کو بھی ساتھ شامل کرنا چاہئے۔کیونکہ یہ انسانی فطرت ہے کہ بچپن میں انسان جو چیزیں دیکھتا اور سنتا ہے ان کا بہت گہرا اثر دل پر پڑتا ہے اور ہمیشہ کے لئے وہ دل پر انمٹ نقوش بن جاتے ہیں۔وہ نقوش دل پر بھی قائم ہوتے ہیں اور دماغ پر بھی قائم ہوتے ہیں۔مجھے یاد ہے جب میں قادیان کی گلیوں میں پھرتا تھا تو سب سے زیادہ وہ پرانے زمانے یاد آتے تھے وہ صحابہ یاد آتے تھے جو وہاں گزرا کرتے تھے۔ہم ان کو پہلے سلام کرنے کی کوشش کیا کرتے تھے۔اکثر وہ ہم سے بھی پہل کر جاتے تھے۔گلیوں میں اتنی کثرت سے صحابہ پھرتے ہوئے نظر آتے تھے۔وہ فقیر درویش جو وہاں تھڑوں پر پڑے نظر آتے تھے۔ان کے اندر بھی ایسا تقدس تھا کہ بچپن کی وہ یادیں انمٹ نقوش بن چکی ہیں اور قادیان کی گلیوں میں پھرتے ہوئے ظاہری طور پر دوسرے نظارے بھی میں دیکھ رہا ہوتا تھا لیکن دل اور دماغ ان پرانی یادوں میں بھی محو ہوتا تھا اور ان نظاروں کو دوبارہ نظر کے سامنے لے آتا تھا۔تو اس لئے اگر بچپن میں اس قسم کی تقریبات میں شمولیت کی توفیق ملی ہو تو اس سے جماعت کے ساتھ ایک گہری وابستگی ہو جاتی ہے اور خلافت کے نظام کے ساتھ ہو جاتی ہے۔پس بچوں کے لئے بھی ایک بہت خوبصورت موقع ہے۔ان کو ایک دلکش سعادت مل رہی ہے کہ وہ بھی گھر بیٹھے اپنے ماں باپ کے ساتھ یہ چیزیں دیکھیں ان کو پھر خدا خود یہ توفیق دے گا کہ وہ موازنہ کریں