خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 882 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 882

خطبات طاہر جلد ۱۱ 882 خطبہ جمعہ ا ار دسمبر ۱۹۹۲ء گیا۔اس میں بہت گہرا سبق ہے۔سبق اس میں یہ ہے کہ ظاہری چیزوں کا ایک مرتبہ اور مقام اس لئے بنتا ہے کہ کچھ نیک لوگ ان سے وابستہ ہوتے ہیں، کچھ پاک بندے ان سے وابستہ ہوتے ہیں تو وہ جگہیں مقدس کہلاتی ہیں، کچھ بد اور گندے لوگ ان سے وابستہ ہوتے ہیں تو وہ چیزیں پلید کہلاتی ہیں۔تو ظاہری اینٹ پتھر اور مقام میں کوئی حقیقت نہ کوئی تقدس ہے، نہ کوئی اس میں ذلت ہے نہ کوئی تذلیل ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ پاکیزگی اور خبائث یہ دو چیزیں انسانوں کے ساتھ وابستہ ہیں۔انہی کے دلوں کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں جب تک پاک دل پیدا نہ ہوں ان ظاہری مقامات کا تقدس ان کو لوٹا یا نہیں جاتا اور اس عرصے میں ان مقامات پر جو کچھ بھی ہو خدا غیور ہے اور مستغنی ہے۔غیور اور مستغنی دو صفات مل کر جو جلوہ دکھاتی ہیں اس سے پتا چلتا ہے کہ خدا ان باتوں کی کچھ بھی پرواہ نہیں کرتا وہ توحید کی غیرت رکھتا ہے لیکن تو حید کی غیرت رکھنے والے جب تک دنیا میں پیدا نہ ہوں اس وقت تک مقام تو حید ان کی طرف واپس نہیں لوٹایا جاتا۔پس خدا صبر کرنے والا بھی ہے، خدا نے اپنے سب سے مقدس گھر کو کتنا عرصہ شیطان کے ہاتھ میں رسوا ہوتے ہوئے دیکھا لیکن کوئی پرواہ نہیں کی لیکن جب محمد رسول اکرم ﷺ اور آپ کے ساتھی پیدا ہوئے تو کس شان کے ساتھ غیر اللہ کو اٹھا کر باہر پھینک دیا اور شیطان اور اس کے ساتھیوں کا کچھ بھی وہاں نہیں چھوڑا۔یہی مضمون ہے جو دوسرے بیت المقدس کے متعلق بھی اسی طرح صادق آتا ہے۔وہ بیت المقدس جو فلسطین میں واقع ہے اور جو خانہ کعبہ کے بعد دوسرا ایسا مقام ہے جو عبادت کرنے والوں کی نگاہ میں سب سے زیادہ عزیز ہے اس کے متعلق بھی قرآن کریم کی یہی پیشگوئی ہے کہ ہم نے یہ لکھ چھوڑا ہے کہ ہم یہ گھر اپنے عبادت کرنے والوں کو واپس کریں گے۔جب تک عباد الله المخلصین پیدا نہیں ہوں گے اس وقت تک خدا کو کچھ پر واہ بھی نہیں ہے کہ یہ کن لوگوں کے ہاتھوں میں رہتا ہے تو دیکھئے ایک ہی خدا ہے، اس کا ایک ہی کلام یعنی قرآن کریم ہے، اس کی مختلف آیات مختلف مواقع پر نازل ہوتی ہیں اور بظاہر مختلف مضامین سے تعلق رکھتی ہیں لیکن بنیادی طور پر بظاہر کس طرح ایک دوسرے کے ساتھ منسلک ہیں اور ایک ہی اصول پر مبنی ہیں اور ایک ہی اصول کے متعلق بنی نوع انسان کو پیغام دے رہی ہیں، مختلف جہتوں سے وہ پیغام آرہے ہیں مگر پیغام فی ذاتہ ایک ہی ہیں، عبادت کرنے والے پیدا ہوں گے تو ممکن نہیں ہے کہ غیر اللہ کا مساجد پر قبضہ رہے ، عبادتگاہوں پر