خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 878
خطبات طاہر جلد ۱۱ 878 خطبہ جمعہ اردسمبر ۱۹۹۲ء ایسے ابتلاء میں ڈالے جس ابتلاء کے نتیجہ میں دنیا سے ان کی ساکھ اٹھتی چلی جائے دن بدن مظالم کا نشانہ بنتے چلے جائیں اور کوئی ان کا پرسان حال نہ ہو۔قرآن کریم نے دو قسم کے ابتلاؤں کا ذکر فرمایا ہے۔ایک وہ ابتلاء ہے جو ابتلا ء حسنہ ہے احسن ابتلاء یعنی اچھا ابتلاء۔قرآن کریم فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اچھے ابتلاؤں میں ڈالتا ہے۔اچھے ابتلاء کی تعریف یہ ہے کہ جب مومن اچھے ابتلاؤں سے گزرتا ہے تو پہلے سے زیادہ صحت مند ہو کر گزرتا ہے اس کے بہت سے بوجھ اتر چکے ہوتے ہیں ، اس میں تو انائی کی نئی قو تیں پیدا ہو چکی ہیں۔وہ اس پہلو سے بھی نشو و نما دکھاتا ہے جس پہلو سے وہ پہلے نشو ونما سے عاری ہو چکا تھا۔غرضیکہ نئی نامیاتی طاقتیں اس کے اندر پیدا ہوتی ہیں وہ بڑھنے کی نئی قوتوں سے آشنا ہو جاتا ہے تو ہر اس ابتلا کے بعد جو احسن ابتلا کہلا سکتا ہے آپ دیکھیں گے کہ ہمیشہ الہی جماعتیں پہلے سے بہت زیادہ بڑھتی اور بڑھنے کی نئی نئی صلاحیتیں حاصل کرتی ہیں۔صرف پہلی صلاحیتوں کو ہی نمونہیں ملتی بلکہ نئے نئے مواقع ان کو میسر آتے ہیں نئی صلاحیتیں پیدا ہوتی چلی جاتی اور ایک ابتلاء ہے جس میں کا فر کو مبتلا کیا جاتا ہے۔اس ابتلا کے نقشے قرآن کریم نے جابجا کھینچے ہیں اور ان سے پتا چلتا ہے کہ یہ ابتلا ان لوگوں کے چہروں کی رونقیں چھین لیتے ہیں جن پر یہ ابتلا وارد ہوتے ہیں۔بعض اوقات اُن کو بھوک کے اور تنگی کے اور فلاکت کے لباس پہنائے جاتے ہیں بعض دفعہ وہ اپنے مظالم کی چکی میں پیسے جاتے ہیں اور کوئی ان کا مددگار نہیں ہوتا۔دن بدن اُن کی طاقت کمزور ہوتی چلی جاتی ہے اُن کا رعب باطل ہوتا چلا جاتا ہے۔یہ ابتلا ضروری نہیں کہ صرف کافروں کے لئے ہوں بلکہ بعض دفعہ یہ تنبیہ کے ابتلاء بھی ہوتے ہیں۔ایک انتباہ ہے اور خدا کی انگلی کا ایک اشارہ ہے کہ دیکھو تمہاری آخری منزل یہ ہے اگر تم سنبھلو گے اپنے اخلاق درست نہیں کرو گے ان ہدایات پر عمل پیرا نہیں ہوگے جو میں نے تمہیں دی ہیں تو اس بد انجام کے لئے تیار ہو جاؤ۔اس معاملہ پر غور کرتے ہوئے مجھے سمجھ آئی کہ قرآن کریم کا ہرا بتلا دراصل ان معنوں میں فائدے کا ہی ابتلا ہے کہ اس ابتلاء میں تنبیہ پائی جاتی ہے۔مومن کے ابتلا میں دوسرے مومن کے لئے ایک نصیحت ہے کہ خدا کی خاطر تنگ ہونے والے وقتیں اُٹھانے والے کبھی ضائع نہیں جاتے نہیں