خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 871 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 871

خطبات طاہر جلداا 871 خطبه جمعه ۱۴ دسمبر ۱۹۹۲ء سے یہ خبریں مل رہی ہیں کہ آئی ایس آئی کے Trained فتنے پیدا کرنے والے ڈھا کہ میں اس وقت کام کر رہے ہیں اُن کی مدد سے باقاعدہ آپریشن Plan ہو رہے ہیں ۔ اب ڈھاکے کی مسجد، راج شاہی کی ، فلاں جگہ کی اور حکومت اس میں ملوث ہے۔ حکومت کا ملوث ہونا اس طرح ثابت ہوتا ہے کہ حملے کے وقت اچانک ہو سکتا ہے کہ دفاع کی طاقت پیدا نہ ہوئی ہو اور اتنے ذرائع نہ ہوں کہ اس حملوں کو روکا جا سکتا ہولیکن ساری مسجد کو منہدم کرنا ، ایک ایک اینٹ کو اٹھا کر دوسری جگہ پہنچانا ، بنیادیں کھودنا ، بنیاد کی ساری اینٹیں چرانا، یہ کام ایک دو گھنٹے کی بات تو نہیں تھی۔ ایک دن لگا ہے یا چوبیس یا اڑتالیس گھنٹے لگے ہیں۔ ٹرک کرایوں پر لئے گئے ہیں اتنا بڑا ملبہ ایک جگہ سے ڈھو کر دوسری جگہ پہنچانا یا گھروں میں تقسیم ہونا بڑا وقت چاہتا ہے۔ تو ایک خیانت ہوتی ہے خاموش خیانت کہ تم کرتے چلے جاؤ ہم آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔ آنکھیں بند کرنے والوں کو بھی بتاتا ہوں کہ ان شریروں نے جنہوں نے یہ فساد بر پاکئے ہیں خدا کے گھروں پر حملے کروائے ہیں انہوں نے تو اپنی آخرت کو ہمیشہ کے لئے برباد کر دیا ہے۔ ان کا انجام تو اُن کو قیامت کے دن معلوم ہوگا کہ کیا ہے؟ کیسے خائنوں میں ان کا شمار ہو گا لیکن آنکھیں بند کرنے والے بھی قیامت کے دن اندھے اٹھائے جائیں گے۔ اُن سے بھی خدا کے فضل آنکھیں بند کر لیں گے اور خدا تعالیٰ فرماتا ہے ایسے لوگوں کے متعلق کہ قیامت کے دن اُن سے منہ پھیر لوں گا۔ خدا کی آنکھیں تو بند نہیں ہوتیں خدا اعراض فرماتا ہے۔ پس ایسے لوگوں سے اعراض کیا جائے گا یہ جواب دہ ہیں کیونکہ قرآن کریم نے جہاں شریعت کو امانت قرار دیا ہے، مذہب کو امانت قرار دیا ہے، وہاں دنیا کی حکومتوں کو بھی تو امانت ہی قرار دیا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْآمُنَتِ إِلَى أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُمُ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ (النساء:۵۹) که امانت کا تعلق صرف مذہب سے نہیں ہے۔ دنیاوی امور میں بھی ہم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ جب تم حکومت بنانے پر آؤ اور ووٹ ، مانگے جائیں تو امانت کا حق اُس کے اہل کو دیا کرو۔ اور جب حکومت بن جائے فرمایا وَ إِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ جب تم لوگوں کے درمیان حکومت کروتو عدل سے حکومت کرو، انصاف سے حکومت کرو۔ یہ عجیب بات ہے کہ قرآن کریم میں جو طرز حکومت بیان کی گئی ہے، وہ عدل پر مبنی حکومت