خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 864 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 864

خطبات طاہر جلد ۱۱ 864 خطبه جمعه ۴/ دسمبر ۱۹۹۲ء مرکزی نظر تو ساری عالمی ضروریات پر رہتی ہی ہے لیکن مختلف ممالک کی بعض فوری مقامی سطح کی ضرورتیں ہوا کرتی ہے اور اُن پر نظر رکھنا اُس ملک کے سیکرٹری تصنیف کا کام ہے۔مثلاً ایک ملک میں کسی خاص قسم کا فتنہ جماعت کے خلاف پھلایا جا رہا ہے، خاص قسم کا ایک منصوبہ بنایا جاتا ہے جس کا بعض ملکوں سے تعلق ہوتا ہے مثلاً انگلستان میں ایک دفعہ یہ منصوبہ بنایا گیا کہ حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام پر گستاخی کا الزام لگا کر تمام سکول کے بچوں کو مختلف تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے والے بچے ہوں یا بڑے ہوں اُن کو جماعت سے بدظن کیا جائے اور مسلمان ملانوں نے لٹریچر تیار کیا اور انگریزی میں ترجمہ کروا کر عیسائیوں میں تقسیم ہوا۔اس قسم کے حربے مختلف ممالک میں استعمال ہوتے رہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے فور جوابی کارروائی ہوئی اور دیکھتے دیکھتے مخالفانہ لٹریچر بند اور پھر غائب ہو گیا کیونکہ اُس جواب کے بعد جو سلسلے نے شائع کیا ہے اعتراض کرنے والے کو کھڑے ہونے کی جگہ باقی نہیں رہتی اُسے خود بھاگنا پڑا اور ہر شعبے میں جماعت کو خدا تعالیٰ نے رعب عطا فرمایا ہے۔نصرت بالرعب ( تذکرہ صفحہ: ۵۳) کا یہی مطلب ہے کہ ایسے دلائل عطا فرمائے ہیں، ایسی ترجیحی سلطان عطا کی ہے یعنی غالب آنے والی دلیل کہ اُس کے نتیجے میں خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ دشمن کے پاؤں اکھڑ جاتے ہیں اور یہ چونکہ ہمیشہ ہوتا چلا جا رہا ہے اس لئے رعب بنتا ہے۔رعب کی ایک تاریخ ہوا کرتی ہے۔رعب آنا فانا خود بخود نہیں بن جاتا فرضی طور پر۔جو رعب دار لوگ ہیں گھروں میں بھی ایسے والدین ہوتے ہیں جو رعب دار ہوتے ہیں، گھروں میں بھی ایسے والدین ہوتے ہیں بالکل بے رعب اُن کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔یہ باتیں اچانک ایک دودن میں نہیں ہوا کرتیں۔رعب دار والدین کا ایک کردار ہے ، ایک لمبا عرصہ تک بچوں نے اُن کو دیکھا ہے، بعض حالتوں میں بعض رد عمل کرتے ہوئے اس کے بعد رعب قائم ہو جاتا ہے، کسی کی مجال نہیں ہوتی کہ اُس رعب کی مخالفت میں کوئی کام کرے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کو جو الہام ہوا نصرت بالرعب اس کے پیچھے ایک لمبا کر دار اور اس کردار کی ہمیں حفاظت کرنی ہوگی ورنہ رعب جاتا رہے گا۔قرآن کریم نے بھی مسلمانوں کو بالعموم اس طرف توجہ دلائی ہے کہ دیکھو یہ بات نہ کرنا ور نہ تمہاری ہوا نکل جائے گی۔وہ ہوا جس کا قرآن کریم نے ذکر فرمایا ہے اُسی کو ہم رعب کہتے ہیں۔اپنے رعب کی حفاظت کریں جو خدا نے آپ کو عطا فرمایا ہے اور وہ حفاظت اسی طرح ہوگی جب دشمن