خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 863
خطبات طاہر جلداا 863 خطبه جمعه ۱۴ دسمبر ۱۹۹۲ء با قاعدہ خدمت گزار ہیں یعنی واقفین زندگی کے طور پر کام کر رہے ہیں، ایسے جو ہیں اُن کے ساتھ بھی مددگار مستقل نہیں ہیں۔ اب شعبہ اشاعت مثلاً مولوی منیر الدین صاحب شمس کے سپرد ہے، سالہا سال بغیر کسی کلرک، بغیر کسی معاون کے، سارا کام وہ خود کرتے ہیں، مجھ سے شکایت کرتے رہے شروع میں ، اُن کو میں نے سمجھایا کہ یہاں کی جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت اچھا مادہ رکھتی ہے، اس میں صلاحیت موجود ہیں، اپنی ٹیم خود بنائیں چنانچہ ٹیمیں بنانی شروع کیں خدا کے فضل سے اتنی اچھی ٹیمیں اُن کے ساتھ بنی شروع ہو گئیں کہ بڑے بڑے کام آسان ہو گئے اور ۔ ہو گئے اور یہی حال باقی دوسری چیزوں میں بھی ہے لیکن ان رضا کارانہ کام کرنے والوں پر ایک حد تک بوجھ ڈالا جا سکتا ہے اور یہی کام دوسرے ملکوں میں بھی اگر اسی طرح سب کریں تو بہت بڑی تعداد میں خدا کے فضل سے جماعت کے اچھے رضا کارتر بیت پاسکتے ہیں اور آئندہ کی ذمہ داریاں سنبھالنے کی اہلیت رکھ سکتے ہیں۔ اس ضمن میں میں تصنیف کا بھی ذکر کرتا ہوں۔ شعبہ اشاعت اور شعبہ تصنیف کا گہرا رابطہ ہے۔ اشاعت کا تو مطلب ہے کہ جو بھی لٹریچر تیار ہو اُس کی مناسب تقسیم اور اُس پر نظر رکھنا کہ کون سی چیز کی ضرورت کہاں کہاں ہے اور وہ ضرورت بروقت پوری کرتے رہنا۔ اپنا سٹاک ختم ہونے سے پہلے اُس کے متعلق متعلقہ شعبوں سے رابطہ پیدا کرنا ، اُن سے مطالبہ کرنا کہ فلاں وقت کے اندر اندر ہمارا سٹاک ختم ہونے والا ہے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ کافی دیر پہلے اندازہ لگا کر یہ اطلاع دی جائے۔ بعض ملکوں کی طرف سے ایسی اطلاع ملتی ہے کہ قرآن کریم مثلا فرانسیسی سٹاک میں بالکل نہیں رہا اور مطالبہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک دن میں تو نہیں اچانک غائب ہوا تھا۔ ختم ہوتے ہوتے وقت لگتا ہے اندازہ ہو جاتا ہے رفتار کا کہ اس رفتار سے نکل رہا ہے تو اتنے مہینے کا سامان باقی ہے، چند مہینے پہلے لکھنا چاہئے کیونکہ ہو سکتا ہے کہ یہاں بھی ختم کے قریب ہو اور اتنے زیادہ مطالبے اکٹھے آ جائیں تو پھر نیا چھپوانے کی ضرورت پیش آ جائے۔ یہاں بھی میں نے متعلقہ عہد یداروں کو ہدایت کی ہے کہ اپنی ضرورت کا اندازہ چند مہینے پہلے رکھ کر مجھے بر وقت مطلع کیا کریں تا کہ کبھی بھی ایسا نہ ہو کہ اچانک مطالبہ آئے اور ہم اُسے پورا نہ کر سکیں مگر یہ ایسا کام ہے کہ ساری دنیا کے وسیع رابطے اور مسلسل رابطے رہنے ضروری ہیں۔ دوسرا شعبہ ہے تصنیف۔ تصنیف کا کام صرف یہ ہے کہ سلسلے کی لٹریچر کی ضرورتوں پر نظر رکھیں۔