خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 862 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 862

خطبات طاہر جلد ۱۱ 862 خطبه جمعه ۴ / دسمبر ۱۹۹۲ء لیکن وسیع نمائش تھی اس میں کسی اور دلچسپی کی خاطر آئے اتفاقاً جماعت احمدیہ کے سٹال پر نظر پڑی اور جب انہوں نے کھڑے ہو کر وہاں جماعت کے لٹریچر کا سرسری نظر سے مطالعہ کیا تو نہ صرف حیران رہ گئے بلکہ ایک متاثر لیڈر نے یہاں تک لکھا کہ میں تو اسلام کو کچھ اور سمجھا کرتا تھا۔اگر یہ اسلام ہے تو محبت کے لائق ہے۔چنانچہ یہ نمائشیں بہت اہمیت رکھتی ہیں لیکن یہ جو روز مرہ کا رواج بن گیا ہے کہ چند دن پہلے کبھی ہندوستان کے کسی علاقے سے چٹھی آ جائے، کبھی کینیڈایا امریکہ کے کسی علاقے سے چٹھی آ جائے، کبھی جرمنی سے، کبھی فرانس سے کہ اتنی دیر رہ گئی ہے اور ابھی تک ہمارے پاس نمائش کے لئے پورا مواد اکٹھا نہیں ہوا۔یہ بہت ہی نامناسب بات ہے ، یہ بات جماعت کے وقار کے خلاف ہے۔جو امانتیں جس کے سپرد کی جاتی ہیں اُس کا فرض ہے کہ وہ امانتوں کا حق ادا کرے۔پہلے اس سے میں شعبہ اشاعت کو ہدایت کیا کرتا تھا کہ جو بھی خرچ ہو مجبوراً جلدی کتابیں بھجواؤ۔اب میں نے فیصلہ کیا ہے اور یہی جواب لکھوانے شروع کئے ہیں کہ کافی لمبا عرصہ آپ کو ڈھیل دی جا چکی ہے، اب اگر کوئی محرومی ہوگی تو اُس کا گناہ آپ کے سر ہے۔یہ ممکن نہیں ہے کہ ہر دنیا کی جماعت کی ساری ضرورتیں تفصیلاً یہاں سے براہ راست پوری کی جائیں۔ہر ملک کی مرکزی ضروریات پوری کی جاسکتی ہیں اور کی جاتی ہیں۔وہ لوگ کہاں بیٹھے ہوئے ہیں اور کہاں سوئے ہوئے ہیں کہ جن کے سپرد شعبہ اشاعت ہے۔انہوں نے کیوں اپنے ملک کا جائزہ نہیں لیا، کیوں نہیں دیکھا کہ کون کون سی جگہ سلسلے کی کتب کے تعارف کا اچھا موقع ہے؟ صرف ملکی وسیع پیمانے کی نمائش کا سوال نہیں ہے بعض لائبریریاں نمائشیں کرتی ہیں۔بہت سی ایسی تقریبات ہوتی ہیں جن میں حصہ لینے سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے سلسلے کے لٹریچر کا بہت اچھا تعارف ہو سکتا ہے یہ بھی ایک مثال ہے۔تمام سیکرٹریان اشاعت کا فرض ہے کہ اشاعت کے ہر موقع پر نظر رکھیں اور دور کی نظر بھی رکھیں کہ فلاں سن میں فلاں بات ہونی ہے اور اس کے لئے پہلے سے تیاری کریں جو بھی ضرورت ہوگی وہ ضرور پوری کی جائے گی انشاء اللہ۔یہاں لٹریچر اسی لئے شائع ہوتا ہے کہ وہ دنیا میں تقسیم ہو ، کہیں صندوقوں میں بند کرنے کے لئے تو نہیں شائع ہوتا لیکن اب انفرادی طور پر الگ الگ بھجوانے کا سلسلہ بند ہوگا کیونکہ یہاں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے جو کام ہو رہے ہیں اکثر رضا کارانہ ہیں۔بہت کم ایسے لوگ ہیں جو سلسلے کے