خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 861 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 861

خطبات طاہر جلد ۱۱ 861 خطبه جمعه ۴/دسمبر ۱۹۹۲ء کہ ایک ہی بات کی تکرار ہے۔فرماتے ہیں میں مجبور ہوں کیونکہ انسانی فطرت ہے کہ بات سنتی ہے اور بھول جاتی ہے اور جب تک بار بار تکرار کے ساتھ ایک چیز کو سمجھایا نہ جائے پوری طرح اس کے حق ادا کرنے کی طرف توجہ قائم نہیں ہوتی۔پس ضمناً ان باتوں کو بھی دہراتا ہوں جو پہلے کہہ چکا ہوں لیکن بطور مثال کے اور بطور یاد دہانی کے۔اس سلسلے میں میں شعبہ اشاعت کی مثال پیش کر رہا تھا۔شعبہ اشاعت سے متعلق ایک دو اور باتیں کہہ کر پھر بعض دوسرے شعبوں کا بھی محض مثال کے طور پر ذکر کروں گا۔دنیا بھر میں جماعت احمد یہ خدا کے فضل سے نمائشوں میں حصہ لے رہی ہے یعنی ایسی نمائشیں جو کتب کی نمائشیں ہیں اور الا ماشاء الله بعض دفعہ تو دوسری چیزیں بھی ساتھ ہو جاتی ہیں لیکن آج کل دنیا میں یہ رواج زیادہ زور پکڑ رہا ہے کہ کتب کی نمائش مختلف ممالک میں لگائی جاتی ہیں اور اُس میں جماعت احمد یہ خصوصیت کے ساتھ حصہ لیتی ہے۔اسی طرح بڑی نمائشوں میں بھی بعض حصے کتب کی نمائشوں کے لئے مخصوص کئے جاتے ہیں۔میرا گزشتہ کئی سال سے تجربہ یہ ہے کہ دور دور سے ممالک نمائش کے قریب آنے پر یہ اطلاع بھیجتے ہیں کہ اب نمائش میں اتنے دن رہ گئے ہیں ہمیں فلاں فلاں کتب کی ضرورت ہے، فلاں لٹریچر کی ضرورت ہے، فلاں سونیئر ز کی ضرورت ہے اور ہمارے پاس کچھ نہیں ہے اگر جماعت احمدیہ کے وقار کی خاطر ہمیں ہوائی جہاز پر زیادہ خرچ کر کے بھی کتب بھجوائی جائیں تو مناسب ہوگا۔لیکن سوال یہ ہے کہ جماعت کے وقار کا اُن کو نمائش کے قریب آنے کے وقت کیوں خیال آیا۔اب پھر سوال یہ ہے کہ اُس ملک کا نظام کیا کرتا رہا ہے۔وہ ملک بہر حال کسی امیر کے سپرد ہے، اُس ملک کے تابع مختلف شعبوں کے سیکرٹری موجود ہیں، اُن میں ایک اشاعت کا سیکرٹری بھی موجود ہے، کیوں اُسے پہلے خیال نہیں آیا کہ ہمارے ملک میں کب اور کس نوعیت کی نمائش ، کہاں کہاں لگے گی۔ایک ملک جتنا وسیع ہواُتنی ہی زیادہ وہاں سالانہ نمائشیں لگنے کے امکانات ہوتے ہیں۔اب ہندوستان ہے مثلاً وہاں مختلف صوبوں میں مختلف وقتوں میں ایسی نمائشیں لگتی ہیں اور جہاں جہاں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کو اُن نمائشوں میں حصہ لینے کی توفیق ملی ہے، وہاں آنے والوں پر بہت گہرے اثرات مترتب ہوئے ہیں۔بعض مخالف علماء بھی ایسے تھے جو نمائش پر آئے اور سلسلے کی خدمت کے کام دیکھ کر اُن کی کایا پلٹ گئی۔بعض متعصب ہندو لیڈر تھے جو اسلام کا نام برداشت نہیں کر سکتے تھے