خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 81 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 81

خطبات طاہر جلد ۱۱ 81 خطبہ جمعہ ۳۱ /جنوری ۱۹۹۲ء جایا کرو اور خدا کے فضل حاصل کیا کرو مگر اس کا ذکر بلند کرتے ہوئے۔پہلے بھی ذکر ہے اور بعد میں بھی ذکر ہے، اور بہت سی برکتیں جن کا جمعہ کی تیاری سے تعلق ہے، بہت سی برکتیں ہیں جن کا جمعہ کے دوران فرشتوں کے نزول سے تعلق ہے، بہت سی برکتیں ہیں جو جمعہ کے بعد بکھرنے کی صورت میں حاصل ہوتی ہیں اور وہ کام جو انسان چھوڑ کر جمعہ کے لئے حاضر ہوتا ہے جب دوبارہ ان کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو سورہ جمعہ کی تصریح کے مطابق اس میں پہلے سے زیادہ برکتیں ملتی ہیں اور خدا کا فضل پہلے کی نسبت زیادہ میسر آتا ہے اس لئے جو وقت انسان بظاہر قربان کرتا ہے وہ وقت ضائع نہیں جاتا بلکہ کم پھل کی بجائے زیادہ پھل لے کر آتا ہے۔وَاذْكُرُوا اللَّهَ كَثِيرًا (الانفال: ۴۶) اللہ تعالیٰ کا ذکر بھی کثرت کے ساتھ کیا کرو۔یہ مضمون قرآن کریم میں جگہ جگہ بیان ہوا ہے اور سورہ جمعہ کے تعلق میں بھی بیان ہے۔پس جمعہ کے تقرب کا معنی محض جمعہ میں حاضر ہو جانا نہیں بلکہ جمعہ کی برکات کے او پر غور کرتے رہنا اور کوشش کرتے رہنا کہ وہ ساری برکتیں انسان کو نصیب ہوں اور اذان کی آواز پر حاضر ہونے کا مضمون امامت سے تعلق رکھتا ہے اور تقرب الی الامام کے مضمون کو بھی اس نے ڈھانپا ہوا ہے۔مراد یہ ہے کہ جب خدا کے نام پر آواز دی جائے۔جب جمعہ ہونے کا اعلان کیا جائے تو بلا تاخیر اس پر لبیک کہتے ہوئے حاضر ہو جانا۔امام مہدی نے جو ساری دنیا میں اذان دی ہے یہ وہی اذان ہے جس کا سورۃ جمعہ میں ذکر ہے۔جب بھی اذان دی جائے اور تمہیں بلایا جائے تو تم دوڑتے ہوئے تیزی کے ساتھ جمعہ کے لئے حاضر ہو جایا کرو۔یہ جمعہ ظاہری جمعہ بھی ہے جیسا کہ میں نے بیان کیا اور تقرب الی الا مام کا مضمون بھی اس میں شامل ہے جو حضرت رسول اکرم ﷺ نے ہمارے سامنے کھولا۔احضروا الجمعة وادنوا من الامام۔جمعہ میں حاضر ہوا کرو اور امام کا قرب اختیار کرو یہ وہ مضمون ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر یا امام مہدی پر اپنی پوری شان کے ساتھ صادق آتا ہے اور آپ نے جو اذان دی ہے وہ سارے عالم کو اکٹھا کرنے کی اذان دی ہے اور اس کا ذکر آپ احادیث میں سُن چکے ہیں اور تفاسیر میں پڑھ چکے ہیں کہ کس طرح گزشتہ بزرگ اور آئمہ اور اہل فلسفہ اس مضمون کو اچھی طرح سمجھتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک موقعہ پر لکھا کہ ایک بھی مفتر نہیں ہے جس نے اس بات سے اختلاف کیا ہو یا جس نے یہ بیان نہ کیا ہو۔جہاں تک تفصیل صلى الله