خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 852
خطبات طاہر جلد ۱۱ 852 خطبہ جمعہ ۲۷ نومبر ۱۹۹۲ء جائے۔جب ہم کہتے ہیں غلبہ تو مراد یہ نہیں ہے کہ کسی جگہ مسلمانوں کی حکومت قائم ہوگئی ہے۔اس غلبے کے تو کوئی بھی معنی نہیں ہیں۔غلبے سے مراد یہ ہے کہ اللہ کی حکومت دلوں پر قائم ہو۔حضرت محمد مصطفی ﷺ کی حکومت ہمارے اعمال اور ہمارے کردار پر قائم ہو جائے ہم عرش الہی بن جائیں ہم پر خدا حکومت کرے، ان معنوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے جب آپ اپنی ذمہ داریوں پر غور کریں گے تو آپ کو محسوس ہوگا کہ کتنا بڑا کام ہے جو کر نے والا ہے اور ابھی باقی ہے۔اب میں واپس اُس اشاعت کے مضمون کی طرف آتا ہوں۔اگر سیکرٹری اشاعت نے کام کرنا ہے تو اُسے آغاز ہی سے اپنی ذمہ داریوں کی ہر تفصیل کو سمجھنا ہوگا اور اگر وہ سمجھیں تو اُس کے نتیجے میں ، اُس سوسائٹی میں جس سوسائٹی میں وہ جماعت ہے یا جہاں کے سیکرٹری مال کو ہم بطور مثال سامنے رکھتے ہیں، اُس سوسائٹی میں لٹریچر کی ہر ضرورت کو پورا کرنے کی ذمہ داری بھی اُسی کی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ یہ بھی جائزہ لے گا کہ فلاں فلاں سوسائٹی تک ہمیں پہنچنا ہے اور ہمارے پاس اُس کے لئے کچھ بھی نہیں۔پس مرکز کو یہ لکھتے رہنا کہ ہماری یہ ضرورتیں اب تک ہمیں نہیں پہنچیں۔یہ بھی سیکر ٹری اشاعت کا کام ہے ، اُس کا یہ بھی کام ہے کہ دنیا کے ذرائع کو استعمال کر کے جہاں جہاں کتابیں بیچنے کے نظام قائم ہیں اُن کی ایک باقاعدہ جس طرح نہریں بہتی ہیں اس طرح بعض ایسے بڑے بڑے نظام ہیں جن میں آپ ایک طرف کتابیں ڈالیں تو وہ آخر اُن کھیتوں تک پہنچتی ہیں جو پڑھنے والوں کے کھیت ہیں اور بڑی حفاظت کے ساتھ یہ نظام چلتا ہے کوئی قطرہ ضائع نہیں ہوتا۔تو جماعت کی کتابوں کو ایسی نہروں میں ڈال دینا جو بالآخر پڑھنے والوں تک اُس نظام کے تابع خود بخود پہنچیں گی۔یہ بھی سیکرٹری اشاعت کا کام ہے۔اُس کے لئے اُس کو بڑی محنت کرنی چاہئے ، دروازے کھٹکھٹانے چاہئیں۔چھوٹے سے کام کے لئے لوگ اپنی ذات کے لئے ایجنسیاں لیتے ہیں۔اُن کو پتا ہے کہ ایجنسی کو شائع یا مشتہر کرنے کے لئے کتنی محنت کرنی پڑتی ہے۔ایک صاحب سے میری دو تین دنوں میں ملاقات ہوئی میں نے کہا فلاں ایک کام ہوسکتا ہے اُس نے کہا ہاں جی ! میں کروں گا۔میں نے کہا کس طرح کروں گا بتائیے۔انہوں نے کہا جی ! میں سب کے فون نمبر لوں گا جہاں جہاں بھی اس چیز کی ضرورت پیش ہو سکتی ہے فونوں پر اُن سے بات کروں گا اُن سے پتے لوں گا اُن کو اطلاع کروں گا۔میرے پاس یہ چیز آگئی ہے، آپ کو ضرورت ہے، آپ بتائیے۔کون سی