خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 847 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 847

خطبات طاہر جلدا 847 خطبہ جمعہ ۲۷ نومبر ۱۹۹۲ء نظام جماعت سے تعلق میں جو نصیحتیں ہیں جاری کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور پوری دیانت داری سے وہ چاہتے ہیں کہ اُس ہدایت کا حق ادا ہو جائے بعض ایسے ہیں جو سنتے ہیں اور غفلت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور پوری توجہ نہیں کرتے اور بعض ایسے ہیں جو کچھ دیر کے وقت توجہ کرتے ہیں اُس کے بعد چھوڑ دیتے ہیں مختلف حالتوں میں جماعت پائی جاتی ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ اگر ساری جماعت کے تمام عہدیداران اس حد تک امین بن جائیں جس حد تک اللہ تعالیٰ امانت کا تصور ہمارے سامنے پیش فرماتا ہے اور امانت کے مضمون کو قرآن اور احادیث کھول رہے ہیں۔اس حد تک امین بن جائیں جس حد تک آنحضرت ﷺ کے پاک نمونے سے ہمیں امانت کا مضمون سمجھ آتا ہے تو دنیا میں اس دور میں جماعت احمدیہ کی ترقی سینکڑوں گنا تیز رفتار سے چل سکتی ہے۔وہ انقلاب جو صدیوں دور دکھائی دیتے ہیں وہ ہمیں دروازے پر کھڑے دکھائی دینے لگیں گے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ زیادہ سے زیادہ عہد یدار امین بنیں۔اس پہلو سے امانت کی ذمہ داری بہت بڑی ہے اور اس پہلو سے ہماری امانت در اصل تمام بنی نوع انسان سے تعلق رکھتی ہے۔اگر ہم جماعت کے عہدیداران جن پر کسی پہلو سے بھی کوئی ذمہ داری ڈالی گئی ہے اگر حقیقی امین بن جائیں۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ انقلاب جو دوسوسال کے بعد دکھائی دے رہا ہے وہ دیکھتے دیکھتے ہماری زندگیوں کے محدود دائروں میں ہی آسکتا ہے۔پس تمام بنی نوع انسان جو اُس روحانی انقلاب سے پہلے مرجاتے ہیں وہ ساری نسلیں جو دنیا میں ضائع ہو جاتی ہیں اُن کی امانت کا گویا ہم نے حق ادا نہ کیا۔پس یہ وہ اہم پہلو ہے جس کو پیش نظر رکھتے ہوئے میں بعض ایسی باتوں کا اعادہ کرتا ہوں جن کو میں بار بار بیان کر چکا ہوں اور میں دوبارہ سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں کہ آپ امانت کا حق ادا کریں۔سفروں کے دوران بہت سے ایسے نمونے دکھائی دیتے ہیں۔میں جماعتوں سے ملتا ہوں دوست وہاں بعض اپنے مہمانوں کو بھی لے کر آتے ہیں، ملاقاتیں ہوتی ہیں، تبلیغ کی باتیں ہوتی ہیں دیگر دنیا کے مسائل پر گفتگو ہوتی ہے تو ساتھ ساتھ جماعت کا نقشہ بھی سامنے اُبھرتا رہتا ہے۔ساتھ ساتھ یہ بھی پتا چلتا چلا جاتا ہے کہ کس جماعت میں کون امیر کتنا ذمہ دار ہے؟ کون سے عہد یدار اپنے کام کی طرف توجہ کر رہے ہیں، کون سے غافل ہیں اور یہ مضمون کسی کوشش کے بغیر خود بخو دنظروں کے سامنے اس طرح اُبھرتا ہے جیسے کوئی منظر آنکھوں کے سامنے آجائے اور بغیر کسی