خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 845 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 845

خطبات طاہر جلدا 845 خطبہ جمعہ ۲۷ نومبر ۱۹۹۲ء مضمون بھی جاری رہتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نظر جہاں کمزوریوں پر پڑتی ہے وہاں بعض خوبیوں پر بھی پڑتی ہے۔اُن کے امتزاج کے نتیجے میں کچھ فیصلے ہو رہے ہوتے ہیں اور کچھ بخشش اور کچی تو بہ کے نتیجے میں بھی خدا تعالیٰ کی تقدیر بن رہی ہوتی ہے یا کسی کے خلاف بگڑ رہی ہوتی ہے۔یہ مضامین وہ ہیں جن کا ملاء اعلیٰ سے تعلق ہے۔بندے اور اللہ کے درمیان جو قصے چلتے ہیں، جو رشتے بنتے ہیں یا بگڑتے ہیں اُن پر انسان کی نظر نہیں پڑ سکتی اس لئے اس کو خدا تعالیٰ پر ہی رہنے دینا چاہئے اور اللہ تعالیٰ کے فیصلہ پر تو کل رکھنا چاہئے۔جو بھی فیصلہ ہوگا وہ درست ہو گا لیکن جہاں بندوں کے رشتے آپس میں بن جائیں وہاں بہت سی باتیں کھل کر سامنے آجاتی ہیں۔بعض دفعہ ایک بخشش کا معاملہ سامنے آتا ہے لیکن انسان کو یہ اختیار ہوتا ہے کیونکہ جس سے بخشش کی توقع ہے وہ امین ہے وہ مالک نہیں ہے۔پس اس پہلو سے میرا تعلق جو جماعت میں عہد یداروں سے ہے اس میں بعض دفعہ جب مجھے حتی کرنی پڑاتی ہے تو اس مفتی سے بھی درگزر کرنی چاہئے کیونکہ وہ میری بے اختیاری کی علامت ہے۔میرے دل کی سختی کی علامت نہیں وہ بے اختیاری یہ ہے کہ میں مالک نہیں ہوں امین ہوں۔اللہ تعالیٰ نے کچھ ذمہ داریاں ڈالی ہیں اُن کو جس حد تک میں سمجھتا ہوں جس طرح ادا ہونی چاہیئے اسی طرح ادا کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔غلطیاں ہیں تو خدا کی پکڑ کے نیچے ہوں اور اُسی سے معافی کا طلب گار ہوں۔درست فیصلے ہیں تو خدا ہی کی خاطر ہیں اس لئے جہاں تک جماعت کے زاویے سے دیکھنے کا تعلق ہے اُس کو خلیفہ وقت پر اعتماد رکھنا چاہئے اور تو کل رکھنا چاہئے کہ وہ خدا کی طرف سے اس حد تک ضرور حفاظت یافتہ ہے کہ کوئی ایسی بڑی غلطیاں نہیں کرے گا جنہیں خدا درست نہ فرما دے جن کا جماعت کو نقصان پہنچے کیونکہ اگر ایسا ہو تو پھر خدا تعالیٰ پر بھی اُس کا حرف آتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے جس شخص کو مہلت دی ہوئی ہے اور اپنی حفاظت کے تابع رکھتے ہوئے خدمت کا موقع دیا اُس سے ایسی غلطیاں نہیں ہونے دیتا جو اس کے نظام کو بگاڑ مریں۔ہے پس ایسے وہ وقت ہیں جن کے متعلق حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے روشنی ڈالی کہ اگر خدانخواستہ ایسا خطرہ ہو تو خدا تعالیٰ جب چاہے واپس بلا سکتا ہے مگر جماعت کو خلافت کی چھتری کے نیچے یہ حفاظت ضرور ہے کہ ایسی غلطیاں جو عارضی یا معمولی نوعیت کی ہوں جن سے نظام کے بگڑنے کا خدشہ نہ ہو ایسی غلطیوں سے اللہ تعالیٰ چاہے تو درگز رفر مائے لیکن ایسی غلطیاں جو نظام کو