خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 839 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 839

خطبات طاہر جلد ۱۱ 839 خطبه جمعه ۲۰ رنومبر ۱۹۹۲ء خدا امیر بناتا ہے تو ان کی امارت کے دائرے بھی وسیع ہو جاتے ہیں۔ان کو مخلوق خدا کے زیادہ حقوق ادا کرنے ہوتے ہیں۔اگر وہ اُن سے غفلت کریں گے تو جیسا کہ قرآن اور حدیث نے خبر دی ہے وہ لازماً پکڑے جائیں گے اور بہت بڑے عذاب کے سزاوار ٹھہریں گے۔احمدیوں کو میں اس سلسلہ میں دوبارہ یہ توجہ دلاتا ہوں کہ جو اطلاعیں مجھے مل رہی ہیں ان کے مطابق ابھی تک اس قدر بے چینی کا پورا اظہار ہر جگہ نہیں ہوا جو میں سمجھتا ہوں کہ ہونا چاہئے۔جتنی زیادہ تکلیف ہے اس کا عشر عشیر بھی ابھی ہمارے احمدیوں کو نہیں پتا کہ کیا ہو گیا ہے۔اس لئے سارے یورپ کی جماعتیں اور مغرب کی جماعتیں جن تک میری آواز پہنچتی ہے ان کو میں توجہ دلاتا ہوں کہ خدا کے حضور آپ بری الزمہ تب ٹھہریں گے جب حضرت محمد مصطفی ﷺ کا دل لے کر پھر بنی نوع انسان کی خدمت کریں۔ایسا دل لے کر جائیں جس کے اوپر خدا کے پیار کی نظریں پڑیں۔یہ نہ ہو کہ لوگ کہیں کہ تم کیوں غم نہیں محسوس کر رہے تم کیوں فکر نہیں کر رہے۔خدا کہے کہ تم کیوں اتنا فکر کر رہے ہو۔اقبال نے کہا تھا۔مجھے فکر جہاں کیوں ہو جہاں تیرا ہے یا میرا (کلیات اقبال) پتا نہیں یہ کس اسلام کی آواز تھی۔مجھے تو اس شعر کے مقابل پر قرآن کی وہ آواز سُنائی دیتی ہے کہ محد مصطفی ﷺے خدا کے جہان کا اتنا فکر کرتے ہیں خدا عملاً یہ کہتا ہے کہ تجھے فکر جہاں کیوں ہے جہاں تیرا ہے یا میر الیکن محمدمصطفی ہے اس کے تھے جس کا جہاں تھا اس لئے تیرے میرے کے فرق اُٹھ چکے تھے۔اسی مضمون کو خدا تعالیٰ نے ان لفظوں میں بیان فرمایا۔لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ (الشعراء:۲) اے میرے محمد ﷺ ! کیا تو ان کی خاطر اپنے پاک نفس کو ہلاک کر لے گا جو تیرا انکار کر کے ہلاکت کی طرف جا رہے ہیں۔پس آج مسلمانوں کو محمد مصطفی امیہ کے دل کی ضرورت ہے۔اسی دل سے حقیقی سچی ہمدردی کے سرچشمے پھوٹتے ہیں۔ہر احمدی کو وہ دل اپنے سینے میں داخل کرنا چاہئے اور اس دل کے ساتھ بنی نوع انسان کی خدمت کرنی چاہئے۔اللہ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین