خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 79 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 79

خطبات طاہر جلداا 79 خطبه جمعه ۳۱ جنوری ۱۹۹۲ء پوری ہونے والی عظیم الشان پیشگوئیوں کا پیش خیمہ ہوگا ۔ پس دوسری صدی کے سر پر جماعت احمد یہ کو یہ توفیق ملنا کوئی معمولی بات نہیں محض جذباتی ہیجان کا قصہ نہیں ہے۔ واقعہ ایک بہت ہی عظیم الشان پیشگوئی کے پورے ہونے کے آثار ہیں جو ظاہر ہو رہے ہیں اور وہ آثار انشاء اللہ دن بدن زیادہ شان کے ساتھ ظاہر ہوتے چلے جائیں گے اور قوت پکڑتے چلے جائیں گے۔ جمعہ کی اہمیت کے سلسلہ میں ایک اور روایت حضرت سمرہ سے مروی ہے ۔ رسول اکرم ﷺ صلى الله نے فرمایا احضرو الجمعه وادنوا من الامام فان الرجل ليتخلف عن الجمعه حتى انه ليتخلف عن الجنة وانه لمن اهلها ۔ (مسند احمد بن حنبل حدیث نمبر : ۱۹۲۵۳) فرمایا جمعہ پر حاضر ہوا کرو اور امام کے قریب بیٹھا کرو کیونکہ جو شخص جمعہ سے پیچھے ہٹتا ہے وہ جنت سے بھی دور ہو جاتا ہے حالانکہ وہ اس کا اہل ہوتا ہے۔ یہ سادہ سے چند الفاظ ہیں لیکن دیکھیں ان میں کتنی گہری حکمتیں بیان فرمادی گئی ہیں اور باتوں باتوں میں عرفان کے میں عرفان کے عظیم خزانے ہیں جو لٹائے جا رہے ہیں۔ جمعہ پر حاضر ہوا کرو اور امام کے قریب بیٹھا کروان کا کیا تعلق ہے۔ جیسا کہ میں نے بیان کیا۔ جمعہ کا امام سے تعلق ہے اور دراصل اس امام سے تعلق ہے جو خدا مقرر فرماتا ہے۔ اور امام مہدی ہی کے ذریعہ جمعہ کے ہر معنی میں جمعہ سے تعلق رکھنے والی برکتیں مسلمانوں کو نصیب ہوئی تھیں اور درمیانی عرصہ میں لوگوں نے ان برکتوں سے محروم رہنا تھا۔ مقدر یہ تھا کہ جن عظیم کاموں کا آغاز حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ان کی تکمیل آپ کے کامل غلام امام مہدی کے ذریعہ ہوئی تھی ۔ پس امامت کا جمعہ سے گہرا تعلق ہے اور جمعہ کے قریب ہونے کے ساتھ آپ نے امام کے قریب ہونے کا مضمون بھی بیان فرما دیا۔ سادہ سی باتوں میں حکمت کے کیسے کیسے خزانے دفن ہوتے تھے ۔ آنحضرت ﷺ کی حدیث کو سرسری نظر سے پڑھنے والا ایسا ہی ہوتا ہے جو سمندروں کو سرسری نظر سے دیکھے دنیا کے نظاروں کو سرسری نظر سے دیکھے اور گزر جائے اس بیچارے کو پتا ہی نہیں چلتا کہ سمندر کی تہہ میں ڈوبے ہوئے کتنے موتی ہیں، کتنے خزانے ہیں، بعض بنجر زمینوں کی گہرائی میں خدا تعالیٰ نے کتنی نعمتیں انسان کے لئے دفن کر رکھی ہیں صحراؤں صلى الله صلى الله علیم میں تیل کے چشمے ہیں۔ پس کا ئنات ایک زندہ خدا کی مظہر ہے اور حضرت محمد مصطفی ہے اس زندہ خدا کی روحانیت کا مظہر تھے اور ہیں اور اس لحاظ سے آپ کی باتوں کو سطحی نظر سے دیکھنا اپنی جان پر ظلم