خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 834
خطبات طاہر جلدا 834 خطبه جمعه ۲۰ رنومبر ۱۹۹۲ء ملک جن میں عام روز مرہ کی بد دیانتی زیادہ پائی جاتی ہے، بد دیانتی مغربی ممالک میں بھی ہے مگر بڑے پیمانے کی ہے، اونچے پیمانے کی، جب اپنی قوم کے مفاد غیروں سے ٹکرائیں تو پھر دل کھول کر بد دیا نتیاں کرتے ہیں مگر روز مرہ اپنی قوم سے بد دیانتی کر نہیں سکتے ۔ اس کی جرات نہیں ہوتی کیونکہ قوم اس معاملے میں سخت گیر ہے مگر جہاں قوم بیچاری غیر تعلیم یافتہ اور کمزور ہو ان کو ہدایت دینے والا کوئی راہنما نہ ہو اور جو راہنما ہوں وہ خائن ہو چکے ہوں تو ایسی قوموں کا تو پھر کوئی نیک انجام نہیں ہوا کرتا۔ ان کے حالات پر آپ غور کر کے دیکھیں تو آپ کو خیانت کی تاریخ پہلے دلوں میں پلتی ہوئی پھر باہر آتی ہوئی نظر آئے گی۔ بعض زمیندار بلکہ اکثر نے اپنے بچوں کو اچھے سکولوں میں اس لئے ڈالا کہ کوئی اس زمانے میں (پرانے زمانے کی باتیں ہیں ) کوئی سوچتا تھا کہ اسے پٹواری لگواؤں گا اور پٹواری لگوا کر پھر جس طرح ہم نے پٹواری کی شانیں دیکھی ہیں کہ جس کا چاہا کھاتہ بدل کے کسی اور کے نام لگا دیا اس طرح میرا یہ بیٹا کیا کرے گا ۔ پھر ہمارے خاندان کی شان دیکھنا اور یہ آغاز ہی میں شاید اس وقت سے ہی جب بچہ پیدا ہوا تھا اُس وقت سے ہی اس پر ایسے خاندان کے پٹواری کی نظر پڑ رہی تھی اور جنہوں نے بڑا تیر مارا انہوں نے نائب تحصیل دار کے خواب سوچے۔ بہت اونچے جو خاندان تھے انہوں نے کہا کہ جی! ہم تو ڈ پٹی کمشنر بنوائیں گے۔ سی ایس پی بنوائیں گے پھر پورے ضلع پر راج ہو گا پھر ہم جس کو چاہیں گے مروائیں گے جس کو چاہیں گے زندہ کروائیں گے یہ سارے خواب دکھائی دینے والے خواب ہیں۔ ان لوگوں کی آنکھوں سے ان کی خیانت جھانکتی ہے۔ جو بڑے بڑے بدنیت زمیندار یا دوسرے صاحب اثر لوگ ہیں آپ اُن سے مل کر دیکھیں۔ ذراسی بھی فراست وہ سارے ہو تو یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ آپ آنکھ کی خیانت معلوم نہ کر لیں ۔ ان کی طرز بیان ہی ایسی کھوکھلی سی : ہوتی ہے کہ اس سے پتا چلتا ہے کہ ایک چھوٹی بات ہے بے معنی بات ہے۔ تو اُس زمانے میں بچپن میں پھر یہی خواب ان کے سامنے دہرائے گئے ان کے سامنے معزز لوگوں کے جو نقشہ کھینچے گئے وہ سار معزز لوگ بد دیانتی سے معزز بنے تھے ان کو جن صاحب اقتدار خاندانوں سے متعارف کرایا گیا وہ صاحب اقتدار خاندان صاحب اقتدار ہی بد دیانتی کے نتیجہ میں ہوئے اور رفتہ رفتہ ساری قوم اس مضمون کو سمجھ گئی کہ اس ملک میں اگر عزت حاصل کرنی ہے تو خیانت سے حاصل ہو گی ورنہ نہیں ہو سکتی۔ اعلیٰ اخلاقی قدریں ایک دن میں پامال نہیں ہوا کرتیں، کم از کم سو سال لگے ہوں گے کہ قوم