خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 833
خطبات طاہر جلدا 833 خطبه جمعه ۲۰ رنومبر ۱۹۹۲ء کی آزاد ممالک کی پولیس زیادتی نہیں کیا کرتی ، ان کو دھکیلتی ہے اس کو روکنے کی کوشش کرتی ہے۔پہل اگر مجمع کی طرف سے ہو ، اگر پولیس کو مار پڑے، ان کے اوپر بم پھینکے جائیں، ان پر گولیاں چلائی جائیں، ان پر بوتلیں پھینکی جائیں اور کئی قسم کے فساد ہوں تو پھر اس فساد سے بچنے کے لئے اسی حد تک جوابی کارروائی کیا کرتی ہے اور آزاد اور ترقی یافتہ ممالک میں یہ عجیب بات سامنے آتی ہے کہ بعض فسادات کے موقع پر پولیس والے زیادہ زخمی ہوتے ہیں اور دوسرے کم اور پولیس اس وقت اپنے قابو سے نکلتی ہے جب چارہ نہیں رہتا۔جب ہر طرف سے اس کو پڑنی شروع ہوتی ہیں تو پھر وہ بھی زیادتیاں کر جاتے ہیں مگر ان کی تصویریں دیکھنے والا پہچان لیتا ہے کہ زیادتی کدھر سے شروع ہوئی تھی۔مجھے تو زیادہ وقت نہیں مانتا مگر ایک جھلکی میں نے دیکھی تو آپ اندازہ نہیں کر سکتے کہ کیسی تکلیف دہ وہ چیز تھی جو مجھے دکھائی دی اور میں سوچ رہا تھا کہ ساری دنیا میں یہ بد نامی ہو رہی ہے۔معزز سیاست دان ہیں اور احتجاج کرنے کے لئے نکلے ہوئے ہیں ان کے ساتھ خواتین ہیں۔ان کو ایک پولیس والا پکڑتا ہے اور ڈنڈے مارتا ہوا کھینچ کر وہاں لے آتا ہے جہاں پولیس والے گھیرے میں لے لیتے ہیں اور پھر سارے پولیس والے اس نہتے آدمی پر جس نے آگے سے ہاتھ نہیں اُٹھایا ہوتا ، پھر نہیں مارا کوئی ہتھیار استعمال نہیں کیا ، ڈنڈے برسانے شروع کر دیتے ہیں۔یہ کیسی سیاست ہے لیکن تمہاری اپنی پیدا کردہ ہے تم خائن ہوئے صرف جماعت احمدیہ کے معاملہ میں نہیں ہر معاملہ میں خائن ہو گئے اور یہ نہیں کہہ سکتے کہ صرف اپوزیشن دیانت دار ہے اور حکومت خائن ہے۔کبھی اپوزیشن حکومت بن جاتی ہے تو کبھی حکومت اپوزیشن بن جاتی ہے یہ تو ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں۔کبھی یہ باہر آگیا تو کبھی وہ باہر آ گیا ادائیں ایک ہیں یہ مجھے تکلیف ہے۔جب تک ادا ئیں نہیں بدلیں گی جب تک خیانت سے باز نہیں آئیں گے اس وقت تک قوم بچ نہیں سکتی اتنی خیانت ہے کہ یوں لگتا ہے کہ سیاست میں داخل ہونے سے پہلے ہی یہ خواب دیکھ رہے تھے کہ جب ہم بھی جائیں گے تو ہم بھی ایسا ایسا کیا کریں گے۔تو وہ خیانت جو ان کی آنکھوں میں ظاہر ہو چکی ہے اب تو گلیوں میں جھانک رہی ہے۔گھر گھر پر اس کی نحوست کا سایہ ہے وہ دراصل دلوں میں پلی تھی اللہ ان آنکھوں کی غیب خیانت کو بھی جانتا ہے جب ابھی وہ باہر نہیں آئی تھی۔اس صورت حال پر جب نظر ڈالیں تو پاکستان، ہندوستان اور دوسرے تیسرے درجے کے