خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 832 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 832

خطبات طاہر جلدا 832 خطبه جمعه ۲۰ رنومبر ۱۹۹۲ء یہودیوں میں بھی بعض ایسے لوگ ہیں کہ اگر ان کے پاس دولتوں کے پہاڑ لگا دئے جائیں تو تب بھی وہ خیانت نہیں کریں گے۔جب وہ وعدہ کرتے ہیں کہ ہم اس مال کی حفاظت کریں گے تو ضرور حفاظت کریں گے۔کیسی شان ہے قرآن کریم کی۔وہ قوم جس نے قرآن اور صاحب قرآن سے سب سے زیادہ دشمنی کی ہے اس قوم کے پاک لوگوں کو کیسا خراج دیا جا رہا ہے۔کیسا ان کا حق تسلیم کیا جارہا ہے کہ بعض ان میں شریف ہیں اور ایسے ایسے شریف ہیں کہ اگر دولتوں کے پہاڑ بھی ان کے سپردکر دیئے جائیں تو بد دیانتی نہیں کریں گے لیکن افسوس کہ ان بدنصیبوں کی اکثریت ہے جن کے پاس ایک آنہ بھی رکھو، ایک پیسہ بھی رکھو۔تھوڑا سا بھی دے دو تو وہ خیانت کر جائیں گے خیانت خیانت ہی رہے گی۔تو یہ کیا سودا ہوا کہ تھوڑے لوگوں کے حقوق مارے جاتے ہیں تو کیا فرق پڑتا ہے۔مارے ہی تھوڑوں کے جایا کرتے ہیں۔بڑوں کے حقوق مارنے کی تمہیں جرات کہاں ہے۔جب جرات کرتے ہو تو آگے سے مار بھی پڑتی ہے۔اگر بڑوں کے حقوق مارنے کی کوشش کرو گے تو وہ سیاسی غلطی ہے۔طاقتور پر ہاتھ ڈالو گے تو وہ بے وقوفی ہے لیکن جب غریب کے حقوق پر ہاتھ ڈالو گے، کمزور کے حقوق پر ہاتھ ڈالو گے تو یہ خیانت ہے اور اس خیانت کو آنحضرت ﷺ نے اس رنگ میں پیش فرمایا کہ ایک آزاد شخص کی آزادی چھینے کا تمہیں کیا حق ہے۔خدا نے اپنے بندوں کو جو حقوق دیئے ہیں فَمَنْ شَاءَ فَلْيُؤْ مِنْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيَكْفُرُ اگر ایمان تمہارے پاس ہی ہے تب بھی خدا کہتا ہے کہ میرے بندے ہیں تمہیں زبر دستی کسی کو مومن بنانے کا کیا حق ہے۔فَمَنْ شَاءَ فَلْيُؤْمِنُ (الکہف: ۳۰) جو چاہے ایمان لاتا پھرے اور جو چاہے کا فر ہوتا پھرے۔میرا اور میرے بندوں کا معاملہ ہے۔تم بیچ میں دخل دینے والے کون ہوتے ہو لیکن انہوں نے کئی کئی نیک بہانے بنائے اور جانتے بوجھتے ہوئے احمدیوں کے سودے کئے اور مولویوں کے پاس عملاً احمدیوں کے تمام حقوق بیچ ڈالے۔اس خیانت کو خدا تعالیٰ معاف نہیں کر سکتا۔اب سیاست دان گلیوں میں نکلے ہیں۔نہایت بھیا نک اور بڑے تکلیف دہ مناظر ہیں جو ساری دنیا میں دکھائے جارہے ہیں اور اس قوم کی پولیس کا حال دیکھیں کہ اس وقت چونکہ ہر آدمی حکومت کا پچھو بن جاتا ہے اس لئے انتہائی خوفناک مظالم کرتی ہے حالانکہ دنیا میں کہیں بھی پولیس ایسی ناجائز بختی ان لوگوں پر نہیں کیا کرتی جو آگے سے ہاتھ نہ اُٹھائیں، جو شرارت نہ کریں۔محض اکٹھے ہونے سے منع کرنے پر اگر کوئی اکٹھا ہو جائے تو اس پر دنیا