خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 831
خطبات طاہر جلد ۱۱ 831 خطبه جمعه ۲۰ رنومبر ۱۹۹۲ء سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ میں اس پر کوئی سودا کروں۔مولویوں نے لالچیں دیں طرح طرح کی دھمکیاں دیں، یہ کہا کہ ساری قوم آپ کے قدموں میں لا ڈالیں گے، آپ کے خادم بن جائیں گے آپ کے گن گائیں گے ، قیامت تک آپ کا جھنڈا بلند رکھیں گے لیکن قائد اعظم نے ایک ذرہ بھی ان لوگوں کی طرف توجہ نہیں کی ثابت قدم رہے اور دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ کا ان کے ساتھ کیسا شان کا سلوک تھا کہ ان سب مولویوں کے پاؤں تلے سے زمین نکال دی سارے مولوی جھوٹے کر دئیے۔جب یوم حساب آیا ہے تو ان کے پیچھے چلنے والا کوئی بھی باقی نہیں رہا ساری قوم قائد اعظم کے پیچھے چل پڑی۔اب بھی پاکستان کے مسائل کا دراصل یہی حل ہے۔ان کو اتا ترک تو میسر نہیں آسکتا۔اتا ترک سے زیادہ عظیم قائد اعظم ہے۔اتاترک نے تو ایک بدنی سزا دے کر اور انتقام لے کر اپنے مخالفوں کو نیچا دکھانے کی کوشش کی تھی اور بزور شمشیر ملاں کو دیر تک سیاست سے باہر رکھا لیکن قائد اعظم نے تو نہایت ہی اخلاق کا نمونہ دکھاتے ہوئے اپنی قربانی پیش کی لیکن اصول سے پیچھے نہیں ہے۔جب سے ملاں پاکستان کی سیاست میں داخل ہوا ہے پاکستان کی سیاست گندی سے گندی ہوتی چلی گئی اور سیاست دان آزا در ہا ہی نہیں۔جب ملاں سے بد دیانتی کے سودے ہو گئے ، بداخلاقی کے سودے ہو گئے ، ایک کمزور جماعت کے حقوق کو جانتے بوجھتے ہوئے کچلا گیا ہے، کون پاکستان کا سیاست دان ہے جو کہے کہ ہمیں علم نہیں تھا۔آپس کی پرائیویٹ باتوں میں سب کہتے ہیں کہ ظلم ہو گیا لیکن کسی ایک میں بھی جرات نہیں ہے کہ وہ احمدی کے خون کا سودا مولوی سے کرنے کے لئے تیار نہ ہو۔جہاں اس کو اپنا دو کوڑی کو بھی فائدہ نظر آئے گا وہ یہ خون بیچے گا اور جس طرح حضرت اقدس محمد رسول اللہ اللہ نے ہمیں تنبیہ کی تھی کہ دیکھو آزاد کو پکڑ کرکسی اور کے پاس بیچنے کا تمہیں کوئی حق نہیں۔کوئی ایک آزاد انسان کی آزادی کو اگر کسی دوسرے کے پاس اپنے تھوڑے سے کمینے مفاد کی خاطر بیچ ڈالے تو اس کے لئے کیسی سخت تنبیہ حضرت محمد رسول اللہ اللہ نے فرمائی لیکن پاکستان کے سیاست دان چونکہ خائن ہو چکے ہیں اس لئے ان کو کوئی پرواہ نہیں ہے۔یہ بحث اُٹھاتے ہیں کہ یہ تھوڑے ہیں یا زیادہ حالانکہ خیانت میں تھوڑے زیادہ کی بحث ہی نہیں ہوا کرتی۔ایک آنے کی خیانت بھی خیانت ہے اور اموال کی ایک عظیم ڈھیری کی خیانت بھی خیانت ہے۔چنانچہ قرآن کریم نے خیانت کے اسی مضمون کو یہودیوں کے حوالے سے اس طرح بیان فرمایا ہے کہ دیکھو