خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 824
خطبات طاہر جلد ۱۱ 824 خطبه جمعه ۲۰ نومبر ۱۹۹۳ء ہوئی تو بلا تر دو پوری طرح تسلیم کر لیا۔میں نے ان سے کہا کہ دیکھیں آپ لوگوں کو اپنے بچوں کی علامتیں دکھائی دینی چاہئیں۔یہ ہوہی نہیں سکتا کہ ایک بیٹی اچانک ہاتھ سے نکل جائے، یہ ناممکن ہے کہ کوئی بیٹا اچانک باغی ہو جائے۔خدا کا کلام گواہ ہے کہ دلوں میں جو کچھ پلتا ہے وہ آنکھوں سے ضرور ظاہر ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ نے آنکھ سے دل کی طرف سفر ہمیں اس لئے دکھایا۔خدا تو غیب سے ظاہر کی طرف سفر کرتا ہے لیکن یہاں اس مضمون میں تقدیم و تاخیر کی حکمت مجھے یہ سمجھ آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھا رہا ہے کہ میں تو غیب بھی جانتا ہوں حاضر بھی جانتا ہوں لیکن اگر تم نے اپنی اولا دا پنی نسلوں کی تربیت کرنی ہے اور اپنی قوم پر نظر رکھنی ہے تو یاد رکھو کہ آنکھوں سے پہچاننا۔یاد رکھو کہ اگر تم آنکھوں میں مخفی بدیاں، بدنیتیاں پہچان لو گے تو بروقت اپنی اولاد کی یا ان کی تم تربیت کر سکو گے جو تمہارے تابع ہیں ورنہ تم اس موقع کو ہاتھ سے گنوا بیٹھو گے۔پس آنکھ میں شرارت پکنے سے پہلے جب وہ مستقل اس کا حصہ بن جاتی ہے اس سے پہلے کا روائی کی ضرورت ہے۔چنانچہ ان پودوں کی طرح جن کی جڑیں ابھی مضبوط نہ ہوئی ہوں لیکن ان کی علامتیں باہر ظاہر ہو جائیں تو اس وقت اس روئیدگی کو بڑی آسانی کے ساتھ پاؤں تلے کچل کر پامال کیا جاسکتا ہے لیکن جب وہ درخت بن جائیں جب ان کی علامتیں خوب کھل کر ظاہر ہو جائیں تو پھر ان کو مٹانا اور ان کو اکھیڑ نا بڑا مشکل کام ہے۔پس اپنی تربیت کے امور میں آپ اس آیت کریمہ کے مضمون کو پیش نظر رکھیں تو خصوصیت سے وہ لوگ جو مغرب میں اپنی اولاد کی تربیت کے متعلق پریشان ہیں ان کے مسائل حل ہو جائیں گے جب بچے میں پہلی دفعہ کوئی ٹیڑھا پن دیکھتے ہیں، اس کی آنکھ میں کوئی شرارت، کوئی فتنہ دیکھتے ہیں تو اس وقت ضرورت ہے کہ اس کی طرف پوری توجہ کر دیں اور اپنی محبت سے، پیار سے سمجھا کر جیسا بھی ہو اس کے دل سے وہ بدی نوچ لیں جس کی علامتیں آنکھوں میں ظاہر ہونی شروع ہوئی ہیں۔اب میں اس آیت کی طرف واپس آتا ہوں جس کی تلاوت میں نے ابھی کی تھی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَخُونُوا اللهَ وَالرَّسُولَ وَتَخُونُوا آمَنَتِكُم وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ کہ اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی خیانت نہ کیا کرو۔وَتَخُونُوا آمنتِكُمْ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ حال یہ ہے کہ تم اپنی امانتوں کی خیانت کرتے ہو اور تمہیں علم نہیں۔اس کے معانی میں سے دو معانی ہیں جو میں اس وقت آپ کے سامنے زیادہ وضاحت سے