خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 825 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 825

خطبات طاہر جلد ۱۱ 825 خطبه جمعه ۲۰ نومبر ۱۹۹۳ء رکھنا چاہتا ہوں۔اول یہ کہ اللہ اور اس کے رسول کی امانت میں خیانت حقیقت میں ہماری اپنی امانتوں میں خیانت ہے اور یہ ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔ایک تو اس کا معنی یہ ہے یعنی جب ہم اپنے بھائی سے بد دیانتی کرتے ہیں، اپنی قوم سے بد دیانتی کرتے ہیں، اپنے مالک سے، اپنے نوکر سے اپنے بہن بھائی سے لین دین میں یا تقویٰ کی آزمائشوں میں ہم ناکام رہتے ہیں اور خیانت کرتے ہیں تو ان میں سے ہر خیانت دراصل اللہ اور اس کے رسول کی خیانت ہے یہ طرز بیان ہم پر یہ ظاہر کرتی ہے کہ دیکھو تم یہ نہ سمجھنا کہ تمہاری خیانتیں تمہاری اپنی خیانتیں ہیں۔کون پوچھے گا۔گھر کی بات ہے۔تم نے اپنی بیوی سے خیانت کی بیوی نے تم سے کی ، بھائی نے بہن سے کی وغیرہ وغیرہ تو یہ سمجھ لو کہ ہم آپس میں ہی کر رہے ہیں۔ہمارا معاملہ ہے۔فرمایا نہیں ، در حقیقت ہر خیانت اللہ اور اس کے رسول کی خیانت ہے۔کوئی خیانت بھی ایسی نہیں ہے جو تم کرتے ہو اور جو خدا اور اس کے رسول کی خیانت نہ بنتی ہو۔دوسرا ایک اور بہت لطیف مضمون ہے۔وہ قوموں کے حالات بگڑنے کا راز ہے۔وہ لوگ جو اپنے معاملات میں خائن ہو جاتے ہیں پھر وہ خدا اور رسول کی خیانت بھی ان معنوں میں کرنے لگتے ہیں کہ پیغام کے باغی ہو جاتے ہیں۔پیغام کے رنگ بدلنے لگتے ہیں اور فتنہ و فساد کی مستقل بنیادیں ڈال دیتے ہیں۔چنانچہ جب مذاہب بگڑتے ہیں تو پہلے انسانی معاملات کی خیانت ظاہر ہوتی ہے، پھر وہی خائن لوگ خدا پر بھی ہاتھ ڈالنے لگتے ہیں، اس کے رسول کی بے حرمتی بھی کرتے ہیں اس کی باتوں کو بھی توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں اور خدا اور رسول کی باتوں کو بھی توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں۔یہاں اس خیانت کی طرف اشارہ ہے اور مرکزی اصول وہی کارفرما ہے۔وَاَنْتُمْ تَعْلَمُونَ جب تم اپنی روز مرہ کی بددیانتیوں کے متعلق جانتے ہو کہ حقیقت میں تم بد دیانت ہو خیانت کر رہے ہو، تم سے چھپی ہوئی نہیں۔یاد رکھنا کہ جب اللہ اور رسول کی خیانت کرو گے تو وہ بھی تم سے چھپی ہوئی نہیں۔دنیا سے چھپی ہوئی ہو سکتی ہے مگر وہ ظالم جو خدا کے کلام کو اپنی مرضی کے تابع توڑتے مروڑتے اور اپنی مرضی کے مطالب اس کی طرف منسوب کرتے ہیں۔جو رسول کے کلام کی بے حرمتی کرتے ہیں ان کو بہت بڑی تنبیہ ہے کہ تم جانتے ہو تمہارا یہ کوئی عذر قبول نہیں کیا جائے گا کہ تم نے نادانی میں غلط ترجمے کر لئے تھے۔خائن آدمی اگر روزمرہ کے معاملات میں خائن ہے تو خدا اور رسول کے