خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 823 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 823

خطبات طاہر جلد ۱۱ 823 خطبه جمعه ۲۰ رنومبر ۱۹۹۲ء ہیں اور ایک بدنیت کی آنکھیں بالکل اور پیغام دیتی ہیں اور آنکھ کا پیغام تو اتنا لطیف ہے کہ بظاہر انسان کو بھی بعض دفعہ سمجھ نہیں آتا لیکن لطیف ہونے کے باوجود ظاہر بھی ہے اور اگر انسان غور کرے اور فکر کرے تو یہ پیغام اس کو دکھائی دینا چاہئے۔ان دو باتوں میں بظاہر تضاد ہے لیکن حقیقت میں تضاد نہیں ہے۔انسان کی دیکھنے والی آنکھ اگر لطیف نہ رہے تو وہ دوسرے کی آنکھ کی لطافت کو پڑھ نہیں سکتی اور آنکھ کی لطافت حقیقت میں سچی اور ظاہر بھی ہے کیونکہ جانور انسان کی آنکھ کو پہچان جاتے ہیں۔ان میں چونکہ جھوٹ نہیں ہے کوئی بدی نہیں ہے ، ان کی فطرتیں مسخ نہیں ہوئی ہوئی ہیں۔اس لئے جانور فوراً آنکھ کو پہچان جاتے ہیں۔کسی کی آنکھ میں خوف ہو تو کتا اس پر حملہ کرتا ہے، کسی کی آنکھ میں پوری طمانیت ہو تو اس کو کچھ نہیں کہے گا۔ایک پرندہ اگر آنکھ پر نظر ڈالتا ہے تو اس کو پتا چل جاتا ہے کہ اس کی آنکھ شکاری کی آنکھ ہے یا کھانا دینے والے کی آنکھ ہے۔چنانچہ ہم سیر پر جایا کرتے تھے تو بعض دفعہ مگ اور مرغابیاں آجایا کرتی تھیں ان کو ہم روٹی ڈالا کرتے تھے۔ہمارے ایک ساتھی تھے ان سے میں نے کہا کہ آپ کی آنکھ میں مگوں کو دیکھ کر لالچ آتی ہے اس لئے یہ آپ سے گھبراتے ہیں اور جانور واقعہ پہچانتا ہے۔جو لوگ کتوں سے ڈرتے ہیں کتے ضرور ان پر حملہ کرتے ہیں۔تو خدا تعالیٰ نے کیسی عظیم الشان بات اور کتنا گہرا فطرت کا راز ہمیں بتایا ہے۔دوہی چیزیں ہیں جن پر تمہیں نظر رکھنی ہوگی۔دل اور آنکھیں۔دل میں بدی کو نہ پلنے دو۔اصل راز نیکی اور تقویٰ کا یہ ہے کہ دل میں بدی کو داخل ہی نہ ہونے دو یا وہاں پلنے نہ دو اگر وہ پل کر باہر آئے گی تو پھر اس کو آنکھوں سے پہچانو۔اپنی آنکھوں سے بھی اور غیر کی آنکھوں سے بھی۔میں نے دیکھا ہے کہ اس حکمت پر گھر کی تربیت کا انحصار ہے۔بچوں کی تربیت پر اس کا بہت زیادہ انحصار ہے۔ابھی جب میں کینیڈا کے سفر پر گیا تھا تو وہاں بھی بعض باتیں سامنے آئیں بعض خاندانوں نے ملاقات کے وقت اپنے بچوں کے متعلق شکایت کی اور کہا کہ کیا کریں ہم فلاں بچیاں ہیں وہ قابو میں نہیں، فلاں بیٹا ہے وہ قابو میں نہیں اور بھی روزمرہ ایسے واقعات سامنے آتے ہیں۔ابھی ایک دو دن کی ملاقات میں یہاں بھی ایک خاندان کے ایسے سر براہ آئے تھے جنہوں نے اپنی مظلومیت کا ذکر کیا کہ میں کیا کروں ؟ اولاد کے ہاتھوں بے بس ہو رہا ہوں تو ان کو میں نے یہی بات سمجھائی۔شروع میں ان کو یہ ماننے میں تھوڑا سا تر ڈ دکھا کہ میرا قصور ہے لیکن جب بات واضح