خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 822
خطبات طاہر جلد ۱۱ 822 خطبه جمعه ۲۰ رنومبر ۱۹۹۲ء میں پلتی ہے اور حضرت اقدس محمد رسول اللہ علیہ نے جو فرمایا کہ نیتوں پر تمام اعمال کا دارومدار ہے ( بخاری کتاب الوحی حدیث نمبر :1) اس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ بدی کا آغاز دل سے ہوتا ہے تو خدا تعالیٰ نے یوں کیوں فرمایا کہ يَعْلَمُ خَابِنَةَ الْأَعْيُنِ آنکھوں کی خیانت کو جانتا ہے۔اس مضمون کو سمجھنے کے لئے قرآن کے ایک دوسرے محاورے پر نگاہ ڈالیں تو بات واضح ہو جاتی ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے عَلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ (التغابن : ۱۹) وہ غیب کو بھی جاننے والا خدا ہے اور الشَّهَادَةِ کو جاننے والا بھی ہے۔اس مضمون پر اگر آپ گہرا غور کریں تو معلوم ہوگا کہ ہر چیز جو پردہ شہود پر ظاہر ہوتی ہے وہ دراصل پر وہ غیب سے باہر آتی ہے اور اصل غیب ہے۔يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ (البقره: ۴) فرمایایومنون بالشهاده نہیں فرمایا کیونکہ انسان اگر اپنی سائنسی معلومات پر بھی غور کرے جو ہزاروں سال کی محنت کے بعد اس نے حاصل کیں تو یہ عمل اس کو یہ بتائے گا کہ دراصل وہ غیب سے کچھ چیزوں کو شھود میں یعنی ظاہر میں لا رہا ہے اور ہر چیز غیب میں ہے اور غیب سے ظاہر میں یا شھود کی حالت میں لانے کے لئے خدا تعالیٰ نے خود انسان کو وہ فراست عطا فرمائی، وہ عقل بخشی جس نے کروڑ ہا سالوں میں رفتہ رفتہ ترقی کر کے غیب کو ظاہر کی علامتوں سے پہچاننے کی طاقت حاصل کر لی اور صلاحیت حاصل کی۔یہ یادرکھیں کہ ہر چیز غیب ہے جب تک خدا نے عقل کو یہ جو ہر عطا نہیں فرمایا اس وقت تک ساری کائنات غائب تھی۔کچھ بھی نہیں تھا۔اگر عقل کو یعنی صلاحیتوں کو کائنات کے وجود سے نکال دیا جائے جوان چیزوں کو دیکھتی ہیں اور سمجھ آ جاتی ہیں اور اُن چیزوں کو نہیں دیکھتی جو بھی دکھائی نہیں دے رہیں لیکن ممکن ہے کبھی دکھائی دینے لگیں گے۔پھر انسان کو سمجھ آتی ہے کہ رفتہ رفتہ ہمارا سفر غیب سے حاضر کا سفر ہے جیسے نلکا چلا کر مخفی پانی کو یا تیل کے خزانوں کو باہر لایا جاتا ہے۔یہ وہ امر ہے جو خدا تعالیٰ کی طرز کلام ہے اور قرآن کریم میں جگہ جگہ دکھائی دیتی ہے۔تو آنکھ پر جو خائنہ کی علامت ظاہر ہوئی اس نے دل میں پرورش پائی تھی غیب میں تھی لیکن جب نیتیں گندی ہوگئیں تو آنکھوں میں دکھائی دینے لگی۔اس مضمون کو کھول کر بیان کرنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی ہے کہ اس میں ہمارے لئے تربیت کے بہت سے سبق ہیں۔امر واقعہ یہ ہے کہ جب بھی انسان بھٹکنے لگتا ہے اُس کی آنکھوں سے ضرور پتا چل جاتا ہے۔ایک پاک باز نیک انسان کی سیر ہوئی ہوئی آنکھیں بالکل اور پیغام دیتی