خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 819 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 819

خطبات طاہر جلد ۱۱ 819 خطبه جمعه ۱۳/ نومبر ۱۹۹۲ء مومن کا کام نہیں کہ تفصیل میں جائے۔یہ سوچنا میرے نزدیک مناسب نہیں انبیاء کی عزت اور احترام کے پیش نظر کہ ان کی بیویوں نے کیا خیانت کی ہوگی مگر ان کے ساتھ جو خدا تعالیٰ نے عقوبت کا سلوک فرمایا اس کے پیش نظر یہ سوچنا ہمارے لئے لازم ہے کہ عورت جس قسم کی بھی خیانتیں کر سکتی ہے، جہاں تک وہ خیانتیں کر سکتی ہے اس آیت کا مضمون ان سب باتوں پر حاوی ہوگا اور اگر انبیاء کی بیویوں کو کسی خیانت کے نتیجے میں ایسی سخت سزا دلوا سکتی ہے جیسا کہ بیان فرمایا گیا۔تو جو بھی وہ خیانت تھی ہمیں اس سے غرض نہیں۔عورتیں جو خیانت کرتی ہیں اس کے ساتھ ضرور کوئی تعلق ہے۔پس عورتوں کے لئے خصوصیت کے ساتھ اس میں نصیحت ہے کہ ہر اس خیانت سے باز آجائیں جو ان کے خاوندوں کے خلاف خیانت ہے یا ان کے دوسرے تعلق والوں کے خلاف خیانت ہے کیونکہ خدا کے نزدیک ایک بہت بڑا ظلم ہے جس کی سزادی جاتی ہے اور ان مردوں کو میری نصیحت ہے جو اپنی بے حیائیوں کے لئے اپنی بیویوں کو خائن بناتے ہیں تو وہ ان گناہوں میں ساتھ ملوث ہوں گے اور ان کو اس کی شدید ترین سزادی جائے گی۔انبیاء کی مثالیں اس لئے دی گئی کہ ان کا اس میں کوئی دخل نہیں تھا اور خالصہ قصور ان عورتوں کا تھا لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں بنتا کہ اگر مردوں کا قصور ہو تو ان کو خدا چھوڑ دے گا۔جو مرد خود اپنے ہاتھوں سے اپنے عمل اور سکون کی قبریں کھودتے ہیں، اپنے گھروں کو بے حیائیوں کے اڈے بناتے ہیں ان کے لئے اس میں نصیحت ہے ،سبق ہے۔ان کا سکون ان کی آگے نسلوں کا سکون اٹھ جائے گا اور پاکستان میں جو بے پردگی کی روچل رہی ہے اس کا اس مضمون سے گہرا تعلق ہے۔اگر بے پردگی اس Behalf پر ہو کہ عورتیں کام پر جاتی ہیں اور معاشرے میں اس حد تک بے پردگی بے حیائی کا موجب نہیں تو اس قسم کے رہن سہن کو ہم ضروری نہیں کہ بے پردگی میں داخل کریں اسی لئے بعض ملکوں میں عورتوں کا رہن سہن اور ہے اور میں اس کو دیکھتا ہوں اور ان کی طرف سے سمجھتا ہوں کہ اس رہن سہن میں بے حیائی کا کوئی عنصر شامل نہیں اور میں ان کو نہیں پکڑتا تو بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ میں نے آنکھیں بند کر لی ہیں ان باتوں سے ابھی اس لئے کہ کھلی چھٹی ہے جو چاہے کرے، ہر گز نہیں۔جہاں مجھے نظر آتا ہے کہ خطرہ ہے وہاں میں ضرور ان کو سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں کبھی فوری طور پر کبھی ٹھہر کر کبھی کسی دوسرے ذریعے سے ،کبھی خطبات میں بیان کر کے لیکن بے پردگی کا ایک تعلق ضرور بے حیائی سے ہے اور جن معاشروں میں بے حیائی اصل محرک ہو اور