خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 820
خطبات طاہر جلدا 820 خطبہ جمعہ ۱۳/ نومبر ۱۹۹۲ء اصل وجہ بے پردگی کی نمائش یہ ہو کہ عورت اپنے آپ کو زیادہ خوبصورت بنا کر غیروں کو دکھائے اور ان سے تعلقات بنائے یا کم سے کم رمزے کنائے ہوں اور بے تکلف اپنی نمائش کر سکے اور اپنی جانب ان کو کھینچ سکے۔وہاں وہ عورتیں بھی ہزار بہانے پیش کر سکتی ہیں۔کہ ہم نے تو کالجوں میں جانا ہے ہم نے تو فلاں جگہ جانا ہے، ہم نے فلاں کام کرنے ہیں اس لئے ہم اس قسم کے پردے نہیں کر سکیں گی جو آپ سمجھتے ہیں ہم مان ہی نہیں سکتیں کہ قرآن کریم عورت کو اس طرح جکڑتا ہو۔اب ان کا ظاہری عذر ہمیں قبول کرنا پڑے گا بظاہر اگر وہ اپنے اندر کچھ طاقت رکھتا ہو۔اللہ تعالیٰ نے اور بات کی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اللہ تعالیٰ آنکھوں کی خیانت سے واقف ہے۔جب آنکھوں میں خیانت پیدا ہوتی ہے اور اس خیانت سے بھی واقف ہیں جو دلوں میں پناہ لیتی ہے، دلوں کے ہزار پردوں میں چھپی ہوئی ہیں تو ایسے خاندانوں سے جو عذر رکھ کر خود اپنے مستقبل کو تباہ کرتے ہیں اور اپنی اولادوں کے امن اور سکون کو لوٹنے کے سامان کر رہے ہیں ان سے میں یہ کہتا ہوں کہ نہ میں تم سے کوئی بحث کرسکتا ہوں نہ جماعت کے وہ مخلص بندے جو تمہیں نصیحت کے رنگ میں اچھی باتیں کہتے ہیں اور تم سے بری باتیں سنتے ہیں وہ تم سے کوئی بحث کر سکتے ہیں لیکن خدا تم سے بحث کر سکتا ہے اور ایک بحث کرنے والا ایسا ہے جس نے تمہیں تم سے وعدہ کیا ہے کہ قیامت کے دن میں ضرور بحث کروں گا۔میں ضرور حجت کروں گا تم سے اور وہ محمد مصطفی اسی لیے ہیں ان کی بحث کا مطلب یہ ہوگا کہ اس وقت تک تم اپنے نتائج کی بدی کو پاچکے ہو گے تم پر روشن ہو چکی ہوگی بات کہ تم غلط تھے۔پس پردے کا مضمون ہو یا کوئی اور مضمون ہو خیانت کے مفہوم کو اچھی طرح سمجھتے ہوئے اگر آپ اپنے معاشرے کی اصلاح کی کوشش کریں گے تو اسی میں آپ کیلئے خیر ، اسی میں آپ کے لئے برکت ہے۔خدا کرے کہ جماعت کے خلاف حضرت محمد مصطفی یہ قیامت کے دن کوئی حجت نہ کریں اور جماعت کے عمل سے پوری طرح مطمئن اور راضی ہوں اور اس کے ساتھ محمد رسول اللہ راضی ہوں گے۔خدا گواہ ہے کہ خدا اس سے ضرور راضی ہو گا۔