خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 815
خطبات طاہر جلد ۱۱ 815 خطبہ جمعہ ۱۳/ نومبر ۱۹۹۲ء اطلا ئیں ملتی ہیں اس سے عقل بھنا جاتی ہے کہ کیا ہورہا ہے اور کیوں کسی ملاں یا حکومت کو یہ فکر نہیں کہ اپنے معاشرے کو اس قسم کی فحاشی سے بچائیں۔جو اطلاعات مجھے ملتی ہیں مختلف شہروں سے ان سے پتا چلتا ہے۔مثلا کہ گندی فلموں کا کاروبار، بے حیائی کی تصویروں کا کاروباروہاں اتنا زیادہ ہے کہ یورپ کے بے حیا شہروں میں اتنا نہیں ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ان بے حیا شہروں میں جہاں تک حکومت کا تعلق ہے بڑی نیک نیتی کے ساتھ ان باتوں کی نگرانی کرتی ہے اور پولیس بڑی دیانتداری کے ساتھ ان لوگوں کے پیچھے پڑی رہتی ہے اس لئے کاروبار تو یہاں بھی چلتا ہے لیکن اس کاروبار کو کوئی تحفظات حاصل نہیں ہیں لیکن پاکستان جیسے وسیع ملک میں جہاں پولیس بددیانت ہو جہاں کے وزراء یہ اعلان کریں خود بر سر عام کہ ہماری پولیس کلی بددیانت اور بے اعتماد ہو چکی ہے جہاں حکومت کو حقیقت کی اس بات میں کوئی پرواہ نہ رہے کہ عوام کے کیسے اخلاق ہیں اور کیا کیا چیز میں ان اخلاق کو تباہ کر رہی ہیں ، جہاں ملاں کو کوئی شعور ہی نہ ہو کہ اس اعلیٰ اسلامی قدریں ہیں کیا ؟ اور ان پر اس ملک پر کیا بن رہی ہیں۔وہاں یہ چیزیں کھل بندوں عام فروخت ہوتی اور اس کثرت سے نشو ونما پاتی ہیں کہ جیسے کوئی بیماری کسی جسم کے اوپر مکمل قبضہ کرلے اور دفاع کی ساری صلاحیتیں خوابدیدہ ہو جائیں، سوجائیں ان میں ، احساس ہی باقی نہ رہے کہ ہم پر کیا ہورہا ہے۔اس سلسلے میں میں خاص طور پر احمدی نوجوانوں کو اور نظام جماعت کو متنبہ کرنا چاہتا ہوں کہ اس بات کی نگرانی رکھیں۔جب ایک بدی عام پھیل جاتی ہے تو اس کے اثرات ضرور ہر جگہ پہنچتے ہیں یہ ہو نہیں سکتا کہ احمدی معاشرہ ان چیزوں سے کلیہ پاک رہے کیونکہ سمندر میں جب ایک کپڑے کو پھینکا جاتا ہے تو بالآخر اس میں پانی سرایت کرتا ہے بعض چیزوں میں کم کرتا ہے اور آہستہ کرتا ہے بعض چیزوں میں زیادہ تیزی سے کرتا ہے اور مکمل سرایت کر جاتا ہے لیکن جماعت کے معاشرے کو بیدار مغزی ہونے کے ساتھ اور مسلسل محنت اور توجہ کے ساتھ اپنی حفاظت کرنی ہوگی ورنہ یہ چیزیں ان میں راہ پا جائیں گی اور ہوسکتا ہے کسی حد تک پاگئی ہوں اور ایسی صورت میں پھر اس کے بہت ہی خطرناک نتائج نکلیں گے وہ جو دو مثالیں میں نے بیان کیں ہیں وہ امرَأَتَ نُوح اور وَ امْرَأَتَ لُوطٍ یہ مثالیں پھر معاشرے پر صادق آنے لگتی ہیں اور پھر ان کو کوئی روک نہیں سکتا۔میں نے اس صورت حال کا جہاں تک تجزیہ کیا ہے اس کی کچھ تفصیل آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں تا کہ جن لوگوں کو میں