خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 816 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 816

خطبات طاہر جلد ۱۱ 816 خطبہ جمعہ ۱۳/ نومبر ۱۹۹۲ء نصیحت کرتا ہوں وہ یہ مضمون سمجھیں کہ کیوں ان کے لئے مضر ہے۔واقعہ یہ ہے کہ بے حیائی وقتی طور پر انسان کے اندر ایک تحریک پیدا کرتی ہے۔جذبات میں توجہ پیدا کرتی ہے۔بے حیائی کے نظارے جب یہ تموج پیدا کرتے ہیں تو انسان سمجھتا ہے کہ اس کے نتیجے میں ہمیں بہت لطف آیا اور بہت زیادہ بہتر رنگ میں ہم اپنے تعلقات سے لطف حاصل کر سکیں گے لیکن اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ ہر گناہ فطرت کے خلاف ہے اور اس کا ہمیشہ الٹ نتیجہ نکلا کرتا ہے۔مجھے یاد ہے جب میں گورنمنٹ کالج میں پڑھا کرتا تھا ابتدائی سالوں میں فرسٹ ائیر سیکنڈ ائیر کا طالب علم تھا۔ایک سینئر طالب علم کے ساتھ میری گفتگو ہوئی اور وہ بڑی شدت کے ساتھ مغربیت کا قائل اور پردے کے خلاف تھا، وہ نفسیات کا طالب علم تھا اس کو میں نے سمجھایا میں نے کہا تم نفسیات کا ایک چھوٹا سا نکتہ کیوں نہیں سمجھتے۔خدا تعالیٰ انسان کے لطف کی راہ میں حائل نہیں ہے بلکہ الہی احکامات اس کے لطف کی حفاظت کر رہے ہیں اور اسے لمبی زندگی عطا کرتے ہیں۔جہاں پر دہ رائج ہو وہاں یہ تو نہیں کہ انسان کو کسی قسم کا زبانی لطف ہی نہیں ملتا۔ایک جھلک تم شاعری میں دیکھ لو محبوب کی ایک جھلک اس کو ایسی کیفیات عطا کر جاتی ہے دیکھنے والوں کو جو بے حیاء سوسائٹی میں ہر روز ہر وقت دیکھنے سے نصیب نہیں ہوسکتی کیونکہ انسان بڑی جلدی اس چیز کا عادی ہو جاتا ہے اور جب بے پردگی کا عادی ہو جائے تو اس کا اگلا مطالبہ وہی ہو گا کہ اور زیادہ بے پردگی ہو اور وہ لازما بے حیائی تک پہنچے گا۔کچھ دیر کے بعد وہ چیز بھی نہیں رہے گی۔اس سے وہ لطف دینا بند کر دے گی۔پھر انسان بالآخر جانوروں تک پہنچے گا اور جانوروں میں جو قدرتی طور پر ایک بے حیائی تو ہوتی ہے جس کا تعلق حیاء والوں سے ان لوگوں سے جن میں حیاء کا مادہ ہو وہ یہ فیصلہ کرسکیں مگر جانوروں کے تعلق میں جب ہم بے حیائی کہتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ گناہ گار ہیں ان کے ہاں یہی صورت حال ہے۔پس جانوروں میں جو تعلقات میں ایک بے جھجک اور بے تکلف رسوم پائی جاتی ہیں وہ انسانوں میں آتی ہیں تو بے حیائی بن جاتی ہیں۔بالآخر انسان وہاں تک ضرور پہنچ جاتا ہے اور اس سے آگے کچھ ہو ہی نہیں سکتا پھر کسی کی Madness ہوگی۔بڑی تفصیل سے ان سے میں نے اس بات پر گفتگو کی، بعد میں مجھے بہت مدت کے بعد یورپ میں آنے کا موقع ملا تو ان دنوں میں میں نے دیکھا بریلوی ازم، ہندوازم کی تحریکات چل رہی تھیں اور بعض عورتیں پوری طرح ننگی ہو کر، پوری طرح برہنہ ہو کر بازاروں میں نکل آتی تھیں۔یہ بتانے کیلئے کہ ہم ابھی مطمئن