خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 77 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 77

خطبات طاہر جلد ۱۱ 77 خطبہ جمعہ ۳۱ /جنوری ۱۹۹۲ء مضمون ہم نے جمعہ کی عظمت کو دوبارہ قائم کرنا ہے کیونکہ ہماری بقاء کا جمعہ سے تعلق ہے۔یہ میں نے قرآن کریم کی آیات اور احادیث کی روشنی میں خوب کھول دیا ہے۔جمعہ کے جو عظیم الشان پھل ہمیں عطا ہونے ہیں وہ جمعہ کی عظمت کو قائم کرنے کے نتیجہ میں عطا ہوں گے اور آج کا جمعہ اس ضمن میں ایک عظیم قدم ہے جو ہم آگے اٹھارہے ہیں۔یورپ کے ممالک میں خصوصیت کے ساتھ اور اسی طرح دوسرے مغربی ممالک میں جماعت احمد یہ جگہ جگہ بکھری ہوئی ہے اور اتنی تعداد میں مساجد کے قریب احمدی نہیں رہتے کہ ان کے لئے عملاً ہر جمعہ میں شامل ہونا ممکن ہو بعض تو مساجد سے اتنے دور رہتے ہیں کہ ان کے لئے شاید ہی کسی جمعہ میں شامل ہوناممکن ہو پھر مختلف کاموں پر ہوتے ہیں، مختلف کاروبار ہیں ان میں پھنسے ہوئے تو جن کے لئے اس تھوڑے سے وقفے میں جو درمیان میں کھانے کی چھٹی کا وقفہ ہوتا ہے۔جمعہ میں حاضر ہونا ممکن نہیں ہوتا اسی لئے میں اس سے پہلے زور دیتا رہا کہ کوشش یہ ضرور کریں کہ تین میں سے ایک جمعہ ضرور پڑھیں تا کہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ کی اس انذار کی حد میں نہ آئیں کیونکہ بہت ہی بدنصیبی ہوگی کہ آنحضرت ﷺ نے کھلا کھلا انذار فرمایا ہو اور ایک آدمی جمعہ کو بھی تخفیف کی نظر سے دیکھے اور اس انذار کو بھی تخفیف کی نظر سے دیکھے اس لئے میں نے ایک دفعہ یہ تحریک چلائی اور اللہ کے فضل سے جماعت نے اس کے نتیجہ میں مثبت ردعمل دکھایا۔بعض لوگوں نے اپنی نوکریاں چھوڑ دیں، بعض بچوں نے اپنے ہیڈ ماسٹروں سے کہا سکول سے نکالتے ہو تو نکالو ہم تین میں سے ایک جمعہ جا کر تو ضرور پڑھیں گے اور بہت سی جگہ سے ایسی اطلاعیں ملیں کہ اساتذہ کو ان کے سامنے سر جھکانا پڑا اور انہوں نے زور کے ساتھ ، اپنے عزم کے ساتھ جمعہ کی عظمت منوا کر چھوڑی۔بعض احمدیوں نے نوکریوں سے استعفیٰ دیئے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل کے ساتھ ان کو نئی نوکریاں عطا کیں جن میں یہ شرط تھی کہ جمعہ کے دن ان کو ضرور چھٹی ملا کرے گی۔اور ایک صاحب نے لکھا کہ میری نوکری تو چھٹی لیکن جو دوسری نوکری ملی ہے اس میں تین دن چھٹیاں ہیں یعنی جمعہ کی بھی چھٹی ہے۔ہفتہ کو بھی اور اتوار کو بھی تو اس لحاظ سے ان کو جمعہ کا سارا دن دینی کاموں میں صرف کرنے کے لئے میسر آ گیا تو جو لوگ خلوص نیت کے ساتھ اللہ کی راہ میں قربانیاں کرتے ہیں اور دین کی خدمت میں عزم دکھاتے ہیں اللہ ان کی ان کوششوں کو ضائع نہیں فرماتا اور ان پر ہمیشہ رحمت کی نظر رکھتا ہے اور اپنے فضل کے ساتھ ان کی ضرورتیں خود پوری کرتا ہے۔لیکن اب خدا