خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 812
خطبات طاہر جلد ۱۱ 812 خطبه جمعه ۱۳/ نومبر ۱۹۹۲ء تک پہنچ جاتا ہے۔پس ان معنوں میں جب آپ دیکھیں تو حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کی تمام فرمودات قرآن کریم کی کسی نہ کسی آیت میں پیوست ہیں اور کسی ایک خاص دعا کے متعلق آپ کا یہ فرمانا کہ گناہ کرتے وقت وہ انسان مومن نہیں رہتا یا اس قسم کی دوسری خیانتوں کے متعلق یہ فرمانا قرآن کریم میں مثلاً یہ آیت ہے اس سے استنباط ہوتا ہے اور بھی آیت میں استنباط ہوتا ہوگا۔پس۔بنیادی بات یہ ہے کہ خیانت کرنے والا حقیقت میں مومن نہیں رہتا جب وہ خیانت کرتا ہے وہ ایمان کے دائرے سے باہر نکل جاتا ہے۔یہ جو اس دنیا میں آج کل معاشرہ ہے یہ ایسا خطرناک ہوتا چلا جارہا ہے کہ اس آیت کے مضمون کو زیادہ سے زیادہ سمجھنے اور دوسروں میں اس کی تشریح کی ضرورت ہے۔اس کے مقابل پر خدا تعالیٰ نے حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کی مثال رکھی اور اس کا بھی خیانت کی اصطلاح میں ذکر فرمایا۔حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کو جب بالآخر قید سے رہائی نصیب ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ میں اس جیل خانے سے باہر نہیں آؤں گا جب تک اس عورت سے پہلے پوچھا نہ جائے جس نے مجھ پر الزام رکھا تھا۔میں کیسا تھا؟ جب اس تک یہ پیغام پہنچایا گیا تو اس نے اپنے جرم کا اعتراف کیا اور کہا کہ وہ پاک بندہ تھا خدا کا۔اس پر حضرت یوسف نے فرمایا ذلِكَ لِيَعْلَمَ أَنِّي لَمْ أَخُنْهُ بِالْغَيْبِ (یوسف:۵۳) یہ میں نے اس لئے کیا تھا کہ مہینوں تک قید کولمبا کرلیا مگر باہر آنا پسند نہیں کیا اس وجہ سے تا کہ میرا مالک سابق مالک خوب جان لے کہ میں نے اس کی غیر حاضری میں اس سے کوئی خیانت نہیں کی۔کتنا عظیم الشان مضمون ہے اور جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے ایک عارضی مالک کی خیانت کا ذکر فرمایا جو مزدور سے خیانت کرتا ہے یہاں دراصل اس کا الٹ مضمون ہے ایک مزدور پر الزام لگایا گیا کہ اس نے خیانت کی لیکن مزدور ہونے کے باوجود بے حس، بے طاقت اور مجبور ہونے کے باوجود جبکہ خیانت کرنے کے زیادہ نفسیاتی محرکات موجود ہوتے ہیں۔حضرت یوسف علیہ السلام نے اس حالت میں خیانت نہیں کی۔فرمایا ذلِكَ لِيَعْلَمَ أَنِّي لَمْ أَخُنْهُ بِالْغَيْبِ وَاَنَّ اللهَ لَا يَهْدِي كَيْدَ الْخَابِنِيْنَ دو باتیں ثابت کرنے کے لئے میں نے یہ موقف اختیار کیا تھا۔اول یہ کہ میں خائنوں میں سے نہیں ہوں اور جس نے مجھے خریدا تھا اس زمانہ میں جو دستور تھا اس کے مطابق آپ واقعہ ایک اجیر کی حیثیت سے ایک ظاہری غلامی کی زندگی میں جکڑے ہوئے ایک مالک کے گھر کام کر رہے تھے۔فرمایا اس کو علم ہو جائے کہ میں نے کبھی خیانت