خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 804 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 804

خطبات طاہر جلد ۱۱ 804 خطبه جمعه ۱۳/ نومبر ۱۹۹۲ء اے محماً وَاَنْذِرُهُمْ يَوْمَ الْازِفَةِ إِذِ الْقُلُوبُ لَدَى الْحَنَاجِرِ كُظِمِينَ اس دن سے ان کو ڈرا جو قریب تر آتا چلا جا رہا ہے وہ دن جب خوف سے دل ہنسلیوں تک جا پہنچیں گے۔مَا لِلظَّلِمِينَ مِنْ حَمِيمٍ وَلَا شَفِيعِ يُطَاعُ اس دن ظالموں کے کوئی ان کا گہرا جگری دوست کام نہیں آسکے گا۔وَلَا شفیع نہ کوئی ایسا شفیع ان کو میسر ہوگا کہ خدا تعالیٰ جس کی شفاعت کو مان لے جس کی اطاعت کی جائے يَعْلَمُ خَابِنَةَ الْأَعْيُنِ وہ آنکھوں کی خیانت کو جانتا ہے۔وَمَا تُخْفِي الصُّدُورُ اور ان باتوں سے باخبر ہے جن کو دل چھپائے رکھتے ہیں وَاللهُ يَقْضِی بِالْحَقِّ اللہ تعالیٰ حق کے ساتھ فیصلہ فرماتا ہے اور وہ لوگ جن کو خدا کے سوا پکارتے ہیں لَا يَقْضُونَ بِشَيْءٍ ان کے پاس تو فیصلے کی کوئی بھی طاقت نہیں، کوئی اختیار نہیں وہ کسی چیز کا فیصلہ نہیں کر سکتے۔اِنَّ اللهَ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ یقینا اللہ تعالیٰ بہت سننے والا اور بہت دیکھنے والا ہے۔یہاں پہلے تو متنبہ فرمایا گیا کہ تمہاری خیانتیں ایسی نہیں ہوں گی کہ ان کو نظر انداز کر دیا جائے اور تم انہیں چھپا سکو۔ایک دن ایسا آنا ہے جب ان خیانتوں کا تمہیں حساب دینا ہوگا اور وہ دن اتنا سخت ہے کہ محاورے کے مطابق جیسے خوف سے دل بعض دفعہ اس طرح دھڑکتے ہیں یوں لگتا ہے کہ گردن سے ٹکرا رہے ہوں ، ہنسلیوں کی ہڈیوں سے ٹکرا رہے ہیں تو ایسی کیفیت دل کی ہوگی کہ جب خوف اور اضطراب سے دل آپے سے باہر ہورہے ہوں گے اور وہ دن ایسا ہوگا جب دوستیاں کام نہیں آئیں گی ، جب کوئی شفاعتیں کام نہیں آئیں گی۔اللہ ہی فیصلہ فرمائے گا اور اللہ حق کے ساتھ فیصلہ فرمائے گا۔يَعْلَمُ خَابِنَةَ الْأَعْيُنِ وہ آنکھ کی خیانت کو جانتا ہے۔یہ بہت ہی اہم مضمون ہے جس پر اگر ہم نظر رکھیں تو ہماری آنکھیں بہت سی بدیوں سے بچ جائیں اور ہمارے دل بہت سی چیزوں کو چھپانے کے جھنجٹ سے نجات پا جائیں اور معاشرے کی صفائی اور معاشرے کو جرائم سے پاک رکھنے کے لئے اس آیت کا مضمون ایک بنیادی کردار ادا کر سکتا ہے۔عام طور پر بدی نظر سے پیدا ہوتی ہے۔چنانچہ قرآن میں دوسرے موقعوں پر فرمایا وَلَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَى مَا مَتَعْنَابِةٍ أَزْوَاجًا مِّنْهُمْ طله ۱۳۲۰) تم اپنی نظر کو یونہی آزاد، آوارہ نہ دوڑایا کرو۔جس کے پاس اچھی چیز دیکھی جو ہم نے اسے عطا کی ہے اسے لینے کا فیصلہ کر لو، اس کو لینے کی حرص تمہارے اندر پیدا ہو جائے۔پس للچائی ہوئی آنکھ سے دوسری چیزوں کو دیکھنا ، یہ گہری اور سنگین بدیوں کی بنیاد ڈالنے والی بات ہے اور یہ بنیاد دل میں