خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 792 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 792

خطبات طاہر جلد 792 خطبہ جمعہ ۶ رنومبر ۱۹۹۲ء میں سالِ رواں کے ایک ایک لمحے اور ایک ایک پل کو شمار کر رہا ہوں مجھے ایسے محسوس ہوتا ہے کہ میرے چاروں طرف آگ بھڑک رہی ہے۔بارود کا دھواں پھیلا ہوا ہے ، بموں کے دھما کے ہورہے ہیں، انسانی چیخ و پکار کا شور بر پا ہے ، گولیاں چل رہی ہیں ، مار دھاڑ ہورہی ہے ، لوٹ مار کا بازارگرم ہے سائے ناچ رہے ہیں پہلے مچل رہے ہیں وحشت اور درندگی کی فضا میں شہری سہمے سہمے خوفزدہ اور حیران بیٹھے ہیں یا اللہ یہ سب کیا ہے؟ قیامت اور کیا ہوگی؟ عذاب الہی نازل ہونے میں کوئی کسر باقی نہیں رہی۔“ سوال یہ ہے کہ جو کچھ پاکستان میں ہوا اگر یہ اسلام کی خدمت تھی تو کیسا خدا ہے جس کے دین کی آپ نے خدمت کی۔محمد مصطفی اللہ کا خدا تو ایسا نہیں تھا، وہ تو ادنی ادنی خدمتوں کو حیرت انگیز احسانات سے نوازتا تھا۔کسی نے ایک روٹی کی قربانی پیش کی ہے تو ایسے اموال میں برکتیں دی گئیں که نسلاً بعد نسل برکتوں سے ان کی اولادوں نے کھایا اور پھر بھی وہ ختم نہیں ہوئیں، کسی نے معمولی عزت کی قربانی دی تو عزتوں میں ایسی برکت دی گئی کہ معمولی معمولی تاج و تخت کے مالک بنا دئیے گئے۔یہ وہ خدا ہے جو اپنی راہ میں قربانی کرنے والوں کو نوازتا ہے ان سے محبت اور پیار کے سلوک کرتا ہے۔یہ کیسا خدا ہے تم لوگوں کا خدا؟ اگر تم بچے اور یقیناً تم جھوٹے ہوچے نہیں کیونکہ اگر تم سچے ہوتے تو خدا کا سلوک تم سے ایسا نہ ہوتا۔پس میں تمہارے محاورے میں کہہ رہا ہوں یہ تمہارا خدا کیسا ہے کہ جتنی خدمت کرتے ہو اتنی ہی جوتیاں مارتا ہے اور ایسا ذلیل اور رسوا کرتا ہے ناراضگی اور عذاب کے ایسے کوڑے برساتا ہے کہ ساری قوم اس سے بلبلا اٹھی ہے اور چیخ رہی ہے اور کوئی چارہ نہیں پارہی ، کوئی نجات کی راہ نہیں دیکھتی۔یہ اسلامی مملکت ڈاکوؤں کی مملکت بن گئی ، یہ اسلامی مملک بچے چرانے والوں کی مملکت بن گئی ہمعصوم عورتوں کی عزت لوٹنے والوں کی مملکت بن گئی ، ایسی مملکت بن گئی جہاں قانون کے رکھوالے سب سے زیادہ قانون کی حدود میں رہنے والوں کے امن پر ڈا کے مارتے ہیں اور سب سے زیادہ ان کی حمایت کرتے ہیں جو قانون شکن ہیں۔پاکستان کے حالات تو اب ایسے کھلے کھلے واضح حالات ہیں کہ کبھی دنیا میں کسی رات کی سیاہی ایسی واضح نہیں ہوئی جیسے پاکستان کے دنوں کی سیاہیاں واضح ہیں اور اندھیر نگری کا ایسا عالم ہے کہ کوئی پاکستان کا باشندہ ایسا