خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 791 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 791

خطبات طاہر جلد ۱۱ 791 خطبه جمعه ۶ رنومبر ۱۹۹۲ء میں ڈھل کر سامنے آئے اس کی تصویر بڑی بھیانک ہے۔میں صرف ایک دو نمونے آپ کے سامنے رکھتا ہوں تا کہ بنگلہ دیش والے جو یہ سُن رہے ہوں یا ان کو یہ پیغام پہنچایا جائے کہ ان باتوں کو لحوظ رکھیں۔جو کچھ ۱۹۷۴ء میں ہوایا جو اس کے نتیجے میں منطقی نتیجے کے طور پر بعد میں ۸۴ء میں رونما ہوا اور پھر مسلسل ظلم و ستم کی داستان جاری و ساری ہوئی اس کے نتائج کیا نکلے۔سابق وزیر قانون پاکستان لکھتے ہیں: درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے۔دنیا ہماری بداعمالیوں کو دیکھ کر اسلام کے بارے میں رائے قائم کرتی ہے۔میرا خیال یہ ہے کہ اگر آج ہم اسلام سے علیحدگی کا اعلان کر دیں تو یورپ کا بڑا حصہ حلقہ بگوش اسلام ہوسکتا ہے۔“ الله که اگر خدمت اسلام کرنی ہے تو یہ رستہ ہے اس کا۔اس اسلام میں داخل ہوں جسے آپ نے الگ کر رکھا ہے۔اس کو دیکھ کر یورپ حلقہ بگوش اسلام ہورہا ہے تو اس اسلام سے تو بہ کریں جوظلم وستم کا اسلام ہے جو ہر گز محمد رسول اللہ ﷺ کا اسلام نہیں ہے اس لئے ناممکن ہے کہ اسلام حضرت محمد رسول اللہ کا ہو اور دنیا اسے دیکھ کر تو بہ کرے۔پس جب اس اسلام کو چھوڑا جائے تو مرغوب ہو جائے اور شہرت پا جائے اور دنیا بڑے شوق سے اس کی طرف ولولے کے ساتھ اس کی طرف آگے بڑھے اور اس کے دامن میں پناہ ڈھونڈنے لگے۔تو یہ منطقی نتائج ہیں ان پر غور کریں۔بروہی صاحب جماعت کے مداحوں میں سے نہیں بلکہ جماعت اسلامی کے زیر اثر پرورش پانے والے انسان ہیں انہوں نے کھل کر ہمیشہ جماعت اسلامی کی تائید کی ہے۔اس کے باوجو دان تمام اسلام کو نافذ کرنے کی کوششوں کا جو نتیجہ انہوں نے ایک مشہور قانون دان کے طور پر بڑی معقول زبان استعمال کرتے ہوئے نکالا ہے۔وہ لکھتے ہیں:۔درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے۔آج ہم اسلام سے علیحدگی کا اعلان کر دیں تو یورپ کا بڑا حصہ حلقہ بگوش اسلام ہوسکتا ہے۔جب وہ ان لوگوں کو دیکھتے ہیں جن پر اسلامی ممالک کا لیبل لگا ہوا ہے تو ان کے قدم اسلام کی طرف بڑھنے سے رک جاتے ہیں۔اشاعت اسلام کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہم خود ہیں۔“ سید کوثر شیرازی صاحب کا جائزہ یہ ہے جو 9 جولائی ۱۹۹۱ء میں چھپنے والے ایک مقالے میں سے لیا گیا ہے۔