خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 790
خطبات طاہر جلد اا 790 خطبه جمعه ۶ رنومبر ۱۹۹۲ء جیسا کہ میں بیان کر رہا ہوں کہ شواہد بتاتے ہیں کہ ملوث ہیں تو ان کو اتنا سوچنا چاہئے کہ اس سے پہلے جنہوں نے یہ کارنامے سر انجام دیئے تھے ان سے خدا کی تقدیر نے کیا سلوک کیا ؟ اور یہ ملاں لوگ جو ان کو یہ آفر کرتے رہے ہیں کہ اگر تم ہمارے ساتھ ہو جاؤ تو ہمیشہ کے لئے تمہارا نام زندہ رہے گا، تمہارے مخالف ختم ہو جائیں گے تمہارے مد مقابل سیاست دانوں کی سیاست ختم ہو جائے گی اور تمہیں دوام بخشا جائے گا اور علاوہ ازیں یہ روحانی سہرا بھی ہم تمہارے سر پہ باندھیں گے۔کیا یہ موجودہ وزیر اعظم یہ دیکھ نہیں سکتیں کہ یہی سہرا باندھنے والے ہاتھ پھر پھانسی کا پھندہ بھی پہنایا کرتے ہیں اور ان ہاتھوں کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔یہ تاریخ تو پرانی نہیں ہے۔جن لوگوں نے مولویوں کے سہروں کی لالچ میں غلط اقدام کئے ہیں ان کا انجام آپ کے سامنے ہے اور یہ وہ انجام ہے جو الہی سنت کے مطابق ہے اس میں کوئی تبدیلی نہیں وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللهِ تَحْوِيلًا (فاطر ۴۴۰) ہر طرف نظر دوڑا کے دیکھ لو تم خدا کی سنت میں نہ کوئی تبدیلی پاؤ گے نہ کوئی ہیر پھیر پاؤ گے یہ سنت ہے جو بار بار اسی طرح جاری ہوتی ہے۔پس آنکھیں کھولیں ہوشیار ہوں، اگر کوئی غلطیاں کی جاچکی ہیں تو اب وقت ہے کہ ان سے تو بہ کی جائے ،استغفار کیا جائے اور خواہ مخواہ ظلم کی راہ اختیار کرتے ہوئے اس انجام کو نہ پہنچیں جو ظالموں کا انجام خدا تعالیٰ نے مقدر کر رکھا ہے۔جہاں تک قوم کا تعلق ہے قوم بھی پیسی جائے گی۔غلط فیصلوں کے نتیجے میں جو اس وقت کے سر براہ کیا کرتے ہیں ساری قوم پر بد اثرات مترتب ہوتے ہیں اور ایسے مصائب کی چکی میں پھر قوم پیسی جاتی ہے اور بار بار ایسے ہولناک ابتلاؤں میں ڈالی جاتی ہے کہ پھر نکلنے کی کوئی راہ نہیں پاتی۔پاکستان سے عبرت حاصل کریں۔یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس دور میں اسلام کی ایک ایسی خدمت کی جارہی ہے احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر جس کی کوئی مثال اسلامی تاریخ میں آپ کو دکھائی نہیں دے گی۔اتنا عظیم الشان کارنامہ سرانجام دیا جا رہا ہے کہ اس کے نتیجے میں کارنامہ سرانجام دینے والے ہمیشہ کے لئے خدا کی خوشنودی حاصل کر لیں گے اور عرش معلی پر ان کی حمد کے گیت گائے جائیں گے اور ہمیشہ ہمیش کی زندگی پا جائیں گے اور اسلام ترقی کرے گا اور نشو ونما پائے گا اور ہر طرف اسلام کا بول بالا ہو گا۔یہ وہ نقشے ہیں اس جنت کے جو انہوں نے کھینچے اور یہ نقشے عملاً کس طرح حقائق