خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 789
خطبات طاہر جلدا 789 خطبہ جمعہ ۶ رنومبر ۱۹۹۲ء گا، میں جس پر گروں گا وہ پاش پاش ہو جائے گا۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت تو وہ کونے کے پتھر کی جماعت ہے جو چن کر ایسا پتھر وہاں نصب کیا جاتا ہے جو سب سے زیادہ شدید ہو یعنی أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ (الفتح: ۳۰) کے معنوں میں، یہ لفظ اس لئے میں استعمال کر رہا ہوں۔سب سے زیادہ طاقتور ہو اور اس پر کوئی چیز گرتی ہے تو اپنا سر توڑتی ہے اور وہ جس پر گرتا ہے اس کا سر تو ڑتا ہے۔تو ہمیں چھوڑیں تو تب مارے جائیں نہ چھوڑیں تو تب مارے جائیں یہ کریں کیا؟ ایک ہی راہ ہے کہ ایمان لے آئیں۔اللہ تعالیٰ نے نشانات ایک دفعہ نہیں دو دفعہ نہیں ایک سال دو سال نہیں سوسال متواتر اتنی تائیدات کے نشان دکھائے ہیں کہ ایک اندھے کو بھی محسوس ہو جانا چاہئے کہ خدا تعالیٰ کی طاقتیں ان کے ساتھ ہیں ہمارے ساتھ نہیں ہیں۔ورنہ ہر بار ہر مخالفانہ کارروائی کا اُلٹ نتیجہ نکلنا کیا معنی رکھتا ہے۔بہر حال یہ تو اب جن لوگوں کو خدا تعالی گمراہ قرار دے دے ان کی بداعمالیوں کے نتیجے میں ان کا کوئی علاج نہیں ہوا کرتا۔نہ وہ دیکھ سکتے ہیں، نہ وہ سن سکتے ہیں، نہ وہ سچائی کے اظہار کی طاقت رکھتے ہیں لیکن ان میں بھاری اکثریت ایسی ہے جن پر اس صورتِ حال کا اطلاق نہیں ہوتا۔بھاری اکثریت ایسی ہے جو لاعلمی میں یہ حرکتیں کر رہی ہے۔یہ صرف چند ہیں گنتی کے راہنما ان کو کہہ لیں یا بد نصیب لیڈر کہہ لیں جو بھی ان کو نام دیں راہنمائی کی صلاحیتوں سے محروم ہیں اور غلط صلاحیتوں کے استعمال کے نتیجے میں ہر دفعہ قوم کو ہلاکت کی طرف لے کے جاتے ہیں۔یہ وہ بدنصیب واقعات ہیں جنہوں نے پاکستان کا حلیہ بگاڑ کے رکھ دیا ہے۔جب سے پاکستان قائم ہوا ہے مسلسل مولوی کے مظالم اور غلط راہنمائی کے نتیجہ میں قوم کا حال بد سے بدتر ہوتا چلا جارہا ہے۔میں بنگلہ دیش کے رہنے والوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ اگر ان میں یہ طاقت نہیں کہ مذہب کی تاریخ کا گہری نظر سے مطالعہ کریں اور قدیم تاریخ تک نگاہ دوڑائیں تو مذہب کی تاریخ حاضرہ پر نظر ڈالیں جماعت احمدیہ کے سو سال کس بات کی شہادت دے رہے ہیں ؟ کیا حقیقتیں ان کے سامنے کھول رہے ہیں؟ تو یہ کوئی دور کی بات نہیں۔یہ تو آج کی زندہ تاریخ ہے جو ان امور کو کھول کھول کر ان کے سامنے رکھ رہی ہے تو اس سے نصیحت پکڑیں۔ان کو حقیقت میں پاکستان کے حالات کا گہری نظر سے مطالعہ کرنا چاہئے اور دیکھنا چاہئے کہ وہاں کیا ہوا؟ موجودہ وزیر اعظم اگر اس میں ملوث ہیں