خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 768
خطبات طاہر جلد ۱۱ 768 خطبه جمعه ۳۰ را کتوبر ۱۹۹۲ء ضرورت ہے اُس سے کم نہیں بلکہ زیادہ روپیہ ہی میسر آئے گا۔اُس کی تفصیل میں اس وقت بیان نہیں کرنا چاہتا کیونکہ پہلے ہی دشمن یعنی احمدیت کا دشمن ایک شدید عذاب میں مبتلا ہے اور ہر طرف ہاتھ پاؤں مار رہا ہے کہ کسی طرح جماعت کی دن دوگنی رات چوگنی ترقیات کی راہ میں حائل ہو سکے اور ٹیلی ویژن کے ذریعہ جو خطبات کے نشر کرنے کا سلسلہ ہے اس نے تو اُن کی امیدوں پر ایسی چوٹ ماری ہے کہ تلملا اٹھے ہیں اور کچھ پیش نہیں جاتی۔حکومتوں سے درخواست کر رہے ہیں کہ کسی طرح جماعت احمدیہ کی کوششوں کی راہ میں حائل ہو جائیں کسی طرح اس آفاقی پیغام رسانی سلسلے کو بند کر دیں مگر حکومتیں کچھ نہیں کر سکتی جو فیصلے آسمان سے اترتے ہیں اُن کو روکا نہیں جاسکتا۔تو جس بات کا میں نے ذکر کیا ہے وہ جب انشاء اللہ تعالیٰ آپ پر کھل جائے گی اور میں سمجھتا ہوں کہ غالباً اُس کے آغاز کا بہترین دن 23 / مارچ ہو گا یعنی جماعت احمدیہ کے آغاز کا دن۔اُس کے بعد آپ دیکھیں گے انشاء اللہ تعالیٰ خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ کیسے ساری دنیا میں حیرت انگیز طور پر جماعت کا پیغام گھر گھر پہنچے گا اور مسلسل پہنچے گا اور کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔تو تحریک جدید کا آغا ز تو بہت ہی چھوٹا سا ہوا تھا چند ہزار سے لیکن اب جس مرتبے اور مقام پرتحریک جدید پہنچ چکی ہے اُسی کی برکتیں ہیں دراصل یہ جو ہم کھا رہے ہیں لیکن جب میں اس بات پر غور کرتا ہوں تو میری نظر اُس سے پیچھے کی طرف جاتی ہے اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر آ کر ٹھہرتی ہے۔دراصل تحریک جدید ہو یا انجمن ہو یا کوئی تحریک ہو اُس کا آغاز اُس جری اللہ نے کیا ہے جسے ہم مسیح موعود اور مہدی معہود جانتے اور یقین کرتے ہیں۔حقیقت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعاؤں ہی کی برکتیں ہیں اور آپ کے صحابہ کی قربانیاں ہیں جو اس اخلاص کے ساتھ ، گہرے خلوص کے ساتھ خدا کے حضور پیش کی گئیں۔اُن قربانیوں نے لازماً بڑھنا اور پنپنا تھا اور اُن کے لئے ساری دنیا پر پھیلتے چلے جانا مقدر ہو چکا تھا۔پس وہاں نظر جاتی ہے تو پھر حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ کے قدموں پر نظر پڑتی ہے، ان کے قدموں کی برکت ہے۔آپ نے چودہ سوسال پہلے جو مسیح موعود کی پیشگوئیاں فرما ئیں اور مسیح موعود سے جو عظیم عالمی ترقیات وابستہ فرما ئیں یہ کہ کر کہ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِهِ (توبه: ۳۳) محمد رسول اللہ کا پیغام ساری دنیا پر غالب آنے کے لئے بنایا گیا ہے اور مفسرین نے یہ لکھا کہ یہ غلبہ مسیح موعود کے دور میں شروع ہوگا، انجام تک پہنچے گا یعنی اپنے کمال کو پہنچے گا