خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 766 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 766

خطبات طاہر جلد ۱۱ 766 خطبه جمعه ۳۰ را کتوبر ۱۹۹۲ء اضافے کے ساتھ خدا تعالیٰ کے فضل سے تحریک جدید میں چندہ دینے والوں کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ ہوا اور انہوں نے مالی قربانی میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔تحریک جدید کو اللہ تعالیٰ نے جو عظیم کامیابیاں عطا فرمائی ہیں۔اُن کی داستانیں تو اب دنیا کے چاروں براعظموں تک پھیلی پڑی ہیں اور خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اس وقت ایک سو چھبیس ممالک سے زائد ایسے ممالک ہیں جن میں جماعت احمد یہ قائم ہو چکی ہے اور جہاں قائم ہوئی وہاں کثرت کے ساتھ پھیل رہی ہے اور ترقی کر رہی ہے۔تو وہ پودا جو آج سے 58 سال پہلے لگایا گیا تھا اب ایک ایسا تناور درخت بن گیا ہے کہ جس کی شاخیں سب دنیا پر پھیلی پڑی ہیں۔جماعت احمدیہ نے اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ہر مالی تحریک میں بہت غیر معمولی جوش سے حصہ لیا ہے اور تحریک کے آغاز پر جو ولولہ دکھایا گیا اصل قابلِ تعریف بات یہ ہے کہ اُس ولولے میں آگے کمی نہیں آنے دی اور جتنے بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے مالی قربانی میں شامل ہونے والے تحریک جدید کے دفتر اول میں تھے کوئی دن مجھ پر ایسا نہیں آیا، کوئی سال ایسا نہیں گزرا جس میں وہ مالی قربانی میں ترقی نہیں کرتے چلے گئے۔پھر ایک تحریک نہیں اس کے بعد اور تحریکیں بھی جاری ہوئی اور پھر اور تحریکیں بھی جاری ہو ئیں اور کبھی کسی قربانی کرنے والے نے یہ شکوہ نہیں کیا کہ پہلے ہی بہت سی تحریکیں ہیں اب اور تحریکیں بھی جاری کر رہے ہیں۔ہم کہاں سے اتنے چندے لا سکتے ہیں۔بلکہ ہرتحریک پر مسابقت کرنے والوں میں مسابقت کی روح دکھائی اور اُسی جذبے سے ہر تحریک میں شامل ہوئے جس جذبے سے پہلی تحریکوں میں شامل ہوتے رہے اور اب تو تحریکات کی فہرست بہت لمبی ہو چکی ہے۔اور میرے لئے اُس کو یاد رکھنا بھی مشکل ہے لیکن ایک بات یقینی اور قطعی ہے کہ احمدی احباب کو اللہ تعالیٰ نے ایسے خمیر سے پیدا فرمایا ہے جس کی فطرت میں ہارنا اور کمزوری دکھانا نہیں ہے بلکہ ہمیشہ ہر ایک تحریک پر جماعت نے ایک دوسرے سے بڑھ کر لبیک کہا اور حیرت انگیز طور پر قربانیوں میں ترقی کرتی چلی گئی۔اس لئے آج ہم تمام دنیا میں یہ اعلان خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ کر سکتے ہیں کہ اس جماعت جیسی کوئی جماعت دنیا میں موجود نہیں۔اس جماعت کے پائنگ کو بھی دوسری جماعتیں نہیں آتیں۔وہ دشمن جو آج حیرت سے جماعت کی ترقیات کو دیکھ رہے ہیں اور ان وسوسوں میں مبتلا ہیں کہ خدا جانے ان کے پاس پیسے کہاں سے آتے ہیں۔ان کو پتا ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ