خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 759 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 759

خطبات طاہر جلد ۱۱ 759 خطبه جمعه ۱/۲۳ اکتوبر ۱۹۹۲ء احتمال کو نظر انداز نہ کرنا کیونکہ صرف اللہ غلطی سے پاک ہے۔چنانچہ مجھے یاد ہے کہ میں بھی بعض دفعہ نماز میں بھولتا ہوں تو بعض مجھ سے زیادہ بھولنے والے مجھے غلط یاد کرا دیتے ہیں اور اس جگہ سبحان اللہ کہتے ہیں جہاں سبحان اللہ تو ہے ہی لیکن میں نے کوئی غلطی نہیں کی ہوتی پھر بعد میں میں ان کو سمجھا تا ہوں کہ دیکھیں۔سبحان اللہ کیسا پیارا کلام ہے۔غلطی کی اصلاح کا کیسا پیارا انداز ہے پڑھنے والے انسان کو بھی اس سبحان اللہ سے یہ پیغام ملتا ہے کہ تم اصرار نہ کرنا کہ تم ضرور درست ہو۔تم سے بھی غلطی ہو سکتی ہے اور دوسرا پیغام یہ ہے کہ تم بھی تو غلطی کے پتلے ہو۔اگر اس سے ہو گئی تو کیا فرق پڑتا ہے یعنی سچ سچ کی غلطی ہو تب بھی انکساری کا پیغام ہے اور پہلی بات کا ثبوت یہ ہے کہ ہو سکتا ہے تم غلط ہو کہ جب امام درستی نہ کرے تو اس وقت الگ ہونے کا حکم نہیں ہے۔ایسے شخص کا فرض ہے کہ بغیر مزید شور مچائے وہ اس کی متابعت کرے۔چنانچہ بعض دفعہ نماز میں جو عجیب سی حرکتیں ہوتی ہیں ان کی اصلاح کے لئے میں یہ تفصیل بیان کر رہا ہوں کسی امام سے غلطی ہوئی ہے تو ایک صاحب سبحان الله ، سبحان الله کہے جاتے ہیں حالانکہ صرف اشارہ کافی ہے وہ بھی نرم زبان میں۔جو قریب ہے پہلے اس کا فرض ہے اور اگر اس کے دور کے آدمی نے غلطی پکڑی ہے تو وہ وہاں سے سبحان اللہ کہے لیکن تشدد کے معنی میں نہیں جیسے چوٹ مارکر کوئی کہتا ہے بلکہ بجز کے ساتھ انکسار کے ساتھ، اپنے مقام کو پہچانتے ہوئے سبحان اللہ سے اُسے یاد کر وائے کہ آپ سے کوئی غلطی ہوگئی ہے۔اگر غلطی ہو جائے تو بعد میں کیا ہوتا ہے؟ اس سلسلے میں مجھ سے لندن میں ایک سوال کیا گیا تھا۔ایک بچی نے سوال کیا تھا۔میں سمجھتا ہوں کہ اس کا جواب آپ کے سامنے بھی آنا چاہئے انہوں نے کہا کہ ایک امام سے غلطی ہو جاتی ہے تو وہ سجدہ سہو کرے گا۔اس میں دو باتیں ہیں کہ اس کے سجدہ سہو میں کچھ لوگ تو ہیں جو اس کے ساتھ شروع میں شامل تھے وہ تو سجدہ سہو میں شامل ہو جائیں گے لیکن جو بعد میں آئے اور انہوں نے اپنی نماز جاری رکھی ہے اُن کے لئے کیا حکم ہے؟ ان کے لئے یہ حکم ہے کہ وہ اس وقت بھی امام کی متابعت سے نہیں نکلے اور جب امام سجدہ میں جاتا ہے تو وہ نماز کی کسی بھی حالت میں ہوں خواہ وہ قیام کی حالت میں ہوں خواہ وہ رکوع کی حالت میں ہوں اپنی الگ نماز پڑھ رہے ہیں لیکن امام کی متابعت میں وہ سجدہ ضرور کریں گے۔ایک تو یہ بات یاد رکھئے۔دوسرا یہ کہ انہوں نے کہا کہ اگر مقتدی سے کوئی غلطی ہو جائے تو میں اپنے دو سجدے کروں