خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 760
خطبات طاہر جلد ۱۱ 760 خطبه جمعه ۱/۲۳ اکتوبر ۱۹۹۲ء گی؟ اس کا جواب ہے ہرگز نہیں۔تمہاری غلطیاں امام کے تابع خدا کی حفاظت میں آجاتی ہیں۔جب جماعت کے طور پر نماز پڑھ رہے ہو تو وہاں جماعت کا حکم لگے گا اور انفرادیت غائب ہو جاتی ہے جہاں امام کے فارغ ہو جانے کے بعد جو باقی رکعتیں ہیں ان میں اگر کوئی غلطی ہے تو اس میں سجدہ سہو کرنا چاہئے کیونکہ وہ ایسی نماز ہے جو ایک لحاظ سے امام کے تابع ہے اور ایک حصہ اُس کا امام کے بعد شروع ہوتا ہے۔پس اس حصے پر جہاں امام اثر انداز ہو گا وہاں مقتدی ضرور اثر انداز ہو گا یعنی سجدہ سہو وہ کرتا ہے تو آپ کو بھی کرنا پڑے گا لیکن جس حصے پر امام اثر انداز نہیں ہورہا اور آپ غلطی کر رہے ہیں وہاں آپ کو اس غلطی کا سجدہ سہو الگ کرنا چاہئے۔عورتوں کے لئے جو حکم ہے کہ وہ سبحان اللہ نہیں کہیں گی بلکہ تالی بجائیں گی۔میں اس سلسلے میں پہلے کئی دفعہ بتا چکا ہوں کہ اس میں یہ حکمت ہے کہ عبادت میں خلل واقع نہ ہو۔خدا کی حضوری کے درمیان کوئی چیز حائل نہ ہو جائے۔پس عورتوں کے لئے اور مردوں کے لئے نمازوں میں علیحدگی کا جو حکم ہے اس پر بھی حضوری اثر انداز ہوتی ہے۔اگر خدا کے حضور حاضر ہو رہے ہیں تو کوئی دنیاوی رشتے اور دنیاوی کششیں اس خدا کے حضور حاضر ہونے کے احترام میں دخل انداز نہیں ہونی چاہئیں۔اگر ایک عورت آپ کے ساتھ کھڑی ہے یعنی عموماً نمازوں میں ایک طرف عورت کھڑی ہے اور دوسری طرف مرد ساتھ کھڑا ہے تو عورتوں کے اپنے انداز ہیں۔ان میں کششوں کی بھی مختلف کیفیتیں ہیں۔ہر انسان تو ایک جیسا نہیں ہوتا اس لئے بالکل بعید نہیں کہ وہ لوگ جن کے نفسوں میں کمزوریاں پائی جاتی ہیں۔کوئی آزمائش میں مبتلا ہو جائے اور ساتھ کھڑی ہوئی عورت کا احساس اس کی عبادت میں مخل ہو اور وہ خدا تعالیٰ کی حضوری کا تصور چھوڑ کر اس عورت کی حضوری کے تصور میں نماز پڑھتا چلا جائے اس لئے عورت آواز دیتی ہے تو اس کی آواز میں بھی ایک خاص کشش ہوتی ہے اور بعض دفعہ پہچانی بھی جاتی ہے کہ کون ہے۔پس اس لئے تالی کی آواز تو ایک ایسی آواز ہے کہ جس میں کوئی انفرادیت نہیں۔ہر تالی تالی ہی ہے۔پس امام کو صرف یہ پتا لگ جائے کہ کچھ ہوا ہے اور پھر وہ سوچے اور اس کے نتیجہ میں جو کوئی باقی احکامات ہیں وہ جاری ہوں۔پس آنحضرت علیہ نے ہر موقع کے لئے بڑی تفصیلی نصیحتیں فرمائی ہیں۔ان نصیحتوں پر عمل کرنے سے ہماری عبادتیں سج جائیں گی۔ان میں خلا نہیں رہے گا ان میں خدا تعالیٰ کے تصور کی اہمیت دن بدن نمایاں ہوتی چلی صلى الله