خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 757 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 757

خطبات طاہر جلد ۱۱ 757 خطبه جمعه ۲۳/اکتوبر ۱۹۹۲ء رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کر کے بیان کر دیا ہو لیکن دل نہیں مانتا کہ ایک انسان اپنی نماز کو با جماعت بنانے کی خاطر صف میں خلل پیدا کر دے۔جب ایسا واقعہ ہوتا تھا تو ہرشخص کو پھر سرکنا پڑتا تھا اور تھوڑا تھوڑ اقدم کر کے آپس میں سمٹتے تھے اور ایک شخص کے متحرک ہونے سے ساری صف اس طرح متحرک ہو جاتی تھی جس طرح اینٹوں کی قطاروں کی کھیل ہوتی ہے۔بچے اینٹیں کھڑی کر دیا کرتے تھے اور ایک اینٹ پھینکو تو دوسری پر گرتی ، دوسری تیسری پر گرتی اور اس طرح وہ گرتی چلی جاتی تھیں حالانکہ ایک اور حدیث میں حضرت اقدس محمدرسول اللہ ﷺ نے یہ نصیحت فرمائی کہ نمازی کے آگے سے بھی نہیں گزرنا۔(بخاری کتاب الصلوۃ حدیث نمبر : ۴۸۰ ) وہ اپنی جگہ کھڑا ہے اور آپ کا بدن اس سے مس نہیں کرتا لیکن اس کے باوجود سامنے سے گزرنے کی اجازت نہیں بعض حدیثوں میں تو یہاں تک آیا ہے کہ اگر اتنے دن بھی کھڑا ہونا پڑے یعنی اس بات کی اہمیت کو واضح کرنے کی خاطر فرمایا کہ اگر اتنے دن بھی کھڑا ہونا پڑے تب بھی تم نے آگے سے نہیں گزرنا۔مراد یہ ہے کہ ایک سجدہ کا جو فاصلہ ہے وہ نمازی کا اپنا حق ہے اس کی سرزمین ہے اس کے اور خدا کے درمیان اس زمین میں کسی کو حائل ہونے کا حق نہیں ہے۔بہت ہی پیارا اور بڑا گہراپر معانی حکم ہے۔اب ایک طرف تو نمازی کی اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ قائم رکھنے کے لئے یہ ارشاد ہوا اور دوسری طرف ہر آنے والا جب صفوں کو مکمل دیکھے تو ساری صفوں میں خلل پیدا کر دے اور توجہ کو بکھرا دے۔میرا دل تو یہ نہیں مانتا مگر میرے دل کی بات کیا ہے اگر آنحضرت ﷺ کا قطعی حکم ایسا مل جائے جو حدیثوں کے اس ظاہری تضاد کو بھی دور کر دے تو لازماً سر تسلیم خم ہوگا لیکن جب تک یہ ثبوت نہ مل جائے۔میں سمجھتا ہوں کہ اس میں احتیاط کرنی چاہئے اور نمازی کی خدا کی طرف توجہ میں کسی صورت میں بھی خلل پیدا نہیں کرنا چاہئے تبھی مسجد میں سرگوشیاں بھی منع ہیں اور کئی قسم کی حرکات جیسے بچے کرتے ہیں کہ دوڑنے پھرنے لگ گئے کھیلنے کودنے لگ گئے یہ تمام آداب مساجد کے خلاف ہیں۔آداب مساجد کے سلسلہ میں یہ بات آپ اچھی طرح یا درکھیں کہ ہمارا سارا نظام زندگی آداب مساجد سے متاثر ہوتا ہے۔باجماعت نماز میں جو زور ہے اس میں یہ بہت بڑی حکمت ہے۔کیونکہ تمام اسلامی معاشرے اور نظم و ضبط کی تصویر ہے جو باجماعت نماز میں کھینچی جاتی ہے۔پس آداب مساجد کے ساتھ باجماعت نماز کے بھی کچھ آداب ہیں ان کو بھی آپ کو پیش نظر رکھنا