خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 756 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 756

خطبات طاہر جلد ۱۱ 756 خطبه جمعه ۲۳/اکتوبر ۱۹۹۲ء صلى الله نہیں ہونا اور آنحضرت ﷺ نے ایک موقع پر فرمایا کہ تم ہم پر گندے ڈکار نہ پھینکا کر ولیکن اس کے باوجو د ساتھ جڑ کر کھڑے ہونے کا حکم اپنی جگہ قائم رہا۔تو یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ کے اندر صفائی کا جذ بہ نہ رہے۔اس جذبے کے باوجود خدا کے احترام کا جذبہ اتنا غالب ہو کہ اپنی طبعی نفاستوں اور نظافتوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے خدا کے ادب کے تقاضوں کو اپنے سر پہ ہمیشہ قائم رکھیں اور انہی کے حقوق اس وقت ادا کیا کریں۔پس خدا کی خاطر بعض دفعہ بد بو بھی سوکھنی پڑتی ہے۔بعض اور بے ہودہ حرکتیں مسجد میں ہو جاتی ہیں وہ بھی برداشت کرنی پڑتی ہیں یعنی ایسی حرکتیں ہوتی ہیں کہ غصہ بھی برداشت کرنا پڑتا ہے مگر اس کے باوجو دل جل کر بیٹھنا جس کا حکم دیا گیا ہے اور ساتھ مجزا کر کھڑے ہونا۔اس ضمن میں ایک اور بات آپ کے سامنے رکھنی ضروری ہے مجھے یاد ہے کہ بعض دفعہ قادیان میں بھی اور ر بوہ میں بھی اس خیال سے کہ اگر اکیلا ہو تو جماعت نہیں ہوتی ایسا شخص جو نماز میں دیر سے آتا تھا اور اگلی صف مکمل ہو جاتی تھی وہ آگے سے ایک آدمی کو گھسیٹ کر پیچھے کر لیتا تھا اور اپنی نماز با جماعت بنانے کی خاطر اس کو اپنے ساتھ کھڑا کرتا تھا اور کئی بزرگوں کو بھی میں نے دیکھا کہ ان کی تائید اس کو حاصل تھی۔میں نے جہاں تک غور کیا ہے میرے علم میں نہیں کہ آنحضرت یے نے اس بات کا حکم دیا ہو۔میں سمجھتا ہو کہ یہ استنباط کیا گیا ہے لیکن میں نے بہر حال علماء کو متوجہ کیا ہے اور ربوہ میں تو ہمارے بزرگ علماء اس وقت براہ راست میری یہ بات سُن رہے ہیں وہ یہ نوٹ کر لیں اور تلاش کریں کہ کیا واقعہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ اللہ نے اس بات کا حکم دیا ہے کہ تم اپنی نماز با جماعت بنانے کی خاطر باجماعت نماز میں خلل پیدا کر دیا کرو۔میں نہیں مان سکتا اگر مل گئی تو سر تسلیم خم کرنا ہو گا پھر میری سوچ یقینا غلط ہے لیکن مجھے یہ خیال ہے کہ غالباً ایسا نہیں ہوگا کیونکہ ایک شخص کی باجماعت نماز بنانے کی خاطر پوری صف پر اثر پڑتا ہے اور خلل واقع ہو جاتا ہے اور یہ حکم یقیناً بہت زیادہ واضح اور غالب اور قوی ہے کہ درمیان میں فاصلے نہ ہوں۔اگر آپ آگے سے گھسیٹ کر کسی کو پیچھے کرتے ہیں تو ایک فاصلہ پیدا کرتے ہیں پس اگر دو باتوں میں تضاد دکھائی دے تو یقیناً ایک حدیث ضعیف ہوگی سوائے اس کے کہ کوئی دلوں کو اور عقلوں کو بھی مطمئن کرنے والا حل بھی ساتھ تجویز کیا جائے۔پس اور باتوں کو چھوڑیئے۔صرف میرے نفس کی بات نہیں کوئی حدیث یہ پیغام دیتی ہے اگر حدیث پر مبنی بات ہے تو اس میں ممکن ہے کوئی فرق ہو کوئی ضعیف بات ہو، کسی نے اپنے خیال کو