خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 755 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 755

خطبات طاہر جلد ۱۱ جانا ضروری ہے۔755 خطبه جمعه ۲۳/اکتوبر ۱۹۹۲ء کپڑوں کی باتیں ہو رہی ہیں۔مجھے یاد ہے جب ہم جامعہ احمدیہ میں پڑھا کرتے تھے تو اس وقت اندازہ ہوا کہ بعض غرباء کی کیا حالت ہے اور ان کے لئے ایک معمولی چھوٹا سا کپڑا بھی کتنی اہمیت رکھتا ہے۔میرے ایک بھائی نے مجھے اپنی طرف سے ایک لطیفہ سنایا مگر ویسے بڑی دردناک بات ہے۔انہوں نے بتایا کہ سخت سردی میں ایک لڑکا بالکل بنگا باہر کھڑا تھا۔چھوٹا سا بچہ تھا۔سر پر ٹوپی پہنی ہوئی تھی۔میں نے اس سے کہا کہ اتنی سردی میں تم بغیر لباس کے باہر آگئے ہو تو ہنس کر کہنے لگا۔اے ٹوپی جو پائی ہوئی اے۔کہ دیکھ نہیں رہے میں نے ٹوپی پہنی ہوئی ہے۔اب اُس بیچارے کی یہی زینت تھی اور لباس بھی وہی تھا اور اس کو اہمیت دے رہا تھا اور اس پر خدا کا شکر ادا کر رہا تھا اور پوچھنے والے پر ہنس رہا تھا کہ تمہیں نظر نہیں آتا کہ میں ننگا نہیں ہوں میرے سر پر ٹوپی ہے تو خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ نے ہمیں یہ سبق دیا کہ جو کچھ میسر ہے وہ لے کر خدا کے حضور حاضر ہوا کرو۔لیکن اچھی چیز صاف ستھری چیز لے کر جایا کرو اور تقویٰ کے لباس سے تمہارے لباس کا ٹکراؤ نہ ہو ورنہ تم نگے ہو جاؤ گے اور تقویٰ کے لباس کے بغیر خواہ کچھ بھی اوڑھا ہو گا تم خدا کے سامنے گویا ننگے بدن ہو گے۔حضرت آدم کے متعلق جو پتوں سے تن ڈھانپنے کا ذکر ملتا ہے وہ یہی مضمون ہے۔دراصل استغفار سے وہ اپنے بدن کو ڈھانپ رہے تھے۔جاہل سمجھتے ہیں کہ ننگے ہو رہے تھے اور پتوں سے ڈھانپ رہے تھے۔خدا کو پتوں کے پیچھے نظر نہیں آتا تھا؟ کیسی جاہلانہ بات ہے۔اپنے دل کی جہالت حضرت آدم کی طرف منسوب کرتے ہیں حالانکہ وہ استغفار تھا اور اس کی کوشش کے جواب میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے اس سے حسن سلوک کیا۔اسے معاف فرما دیا۔یہ تو نہیں کہا کہ ہم نے اسے جوڑا دے دیا کہ اچھا یہ پہن لو۔کوئی بات نہیں پتوں میں کیوں چھپتے ہوتو یہ مضمون روحانی کلام کی اصطلاحوں میں ہیں اور روحانی اصطلاحوں کو سمجھ کر ہی ان کے مضامین سمجھ آتے ہیں پس جو بھی مسجد میں آئے بچہ ہو یا بڑا ہو اس کو صاف ستھر الباس لے کر آنا چاہئے۔اسی طرح میں نے ذکر کیا تھا کہ نظافت کے ساتھ نماز کا تعلق ہے۔آپ کو یہ حکم ضرور ہے کہ خواہ کوئی بُرے ڈکار لے رہا ہو ، خواہ وہ اچھے ڈکار لے رہا ہو یا نہ لے رہا ہو اس سے الگ کھڑے