خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 746 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 746

خطبات طاہر جلد ۱۱ 746 خطبه جمعه ۲۳/اکتوبر ۱۹۹۲ء ہمیشہ قائم رکھنا ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ کی حضوری کا خیال دل میں پیدا کریں اور اگر مسجد میں پیدا نہیں ہوگا تو مسجد سے باہر بھی پیدا نہیں ہوگا۔عارف باللہ مسجد میں حضوری کے تصور کے ساتھ بہت سے فوائد حاصل کرتا ہے اس کی نماز میں زندگی پیدا ہو جاتی ہے اس کی نماز اسے بہت سے سبق دیتی ہے اور بالآخر اس کی نماز میں ایسی لذت پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ شخص جسے تجربہ نہ ہو وہ تصور بھی نہیں کر سکتا کہ نماز میں بھی کوئی لذت ہے۔عام طور پر نمازی جونماز با قاعدگی کے ساتھ پڑھتے ہیں وہ نیکی کی ایک منزل تو بہر حال طے کر لیتے ہیں کہ انہیں احساس ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا اس کا احترام کیا جائے اور جو فرض عائد فرمایا ہے اُسے میں پورا کروں لیکن وہاں نماز ختم نہیں ہوتی وہاں سے نماز شروع ہوتی ہے۔نماز کوسمجھنا اس کے ساتھ گہرا ذاتی تعلق قائم کرنا، اس سے فوائد اٹھا نا تمام تر حضوری کے تصور پر منحصر ہے۔جب یہ تصور آپ کے ذہن سے اتر او ہیں نماز کھو کھلی ہونی شروع ہو جائے گی و ہیں یوں لگے گا جیسے نماز میں بجلی کی رو دوڑنی بند ہو گئی ہے جس طرح Display کے لفظ پھیکے پڑ جاتے ہیں اس طرح نماز میں آپ کے الفاظ بھی پھیکے پڑ جائیں گے، آپ کا دماغ ان کو سمجھ نہیں سکے گا کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔پس حضوری کا تصور بہت ہی اہم ہے آپ کو جرائم سے بچاتا ہے آپ کو صحیح آداب سکھاتا ہے، آپ کو زندگی کا فلسفہ سمجھاتا ہے اور پھر وہی تصور ایک اور رنگ میں تبدیل ہو کر آپ کے لئے ایک اور جنت پیدا کر دیتا ہے۔دوسرا مضمون من یرانی کا یہ ہے کہ مجھے پیار کی نظر سے دیکھ رہا ہے، تیسر امفہوم اس کا یہ ہے کہ میری حفاظت فرما رہا ہے۔جہاں میں جاتا ہوں میں نہیں جانتا کہ کون شرپسند ہے اور کون مفسد ایسا ہے جو ہدارادے سے مجھ پر حملہ کرنا چاہتا ہے مگر میں ہمیشہ خدا کی نظر کے حصار میں چل رہا ہوں اور خدا کی نظر کے حصار کو کون تو ڑسکتا ہے۔پس سبحان من یرانی میں یہ سارے مفاہیم داخل ہیں اور جب آپ اس شعر میں ڈوب کر اس کو پڑھیں یا اس میں ڈوب کر کسی اچھی آواز میں اس کو سنیں تو اچھی آواز بھی نئے مطالب حاصل کرنے میں مدد کرتی ہے۔اسی لئے اچھی آواز میں پڑھنا ضروری ہے۔اسی لئے آنحضرت اللہ نے فرمایا کہ قرآن کریم کو بھی ترنم کے ساتھ پڑھا کرو اور سوز کے ساتھ پڑھا کرو ہے تو خدا کا کلام لیکن خدا کے کلام کو بھی پڑھنے میں فرق ہے۔اس کو سرسری نظر سے پڑھنا اور بات ہے، بے دلی سے پڑھنا اور بات ہے، جان ڈال کر پڑھنا اور بات ہے اور پھر مترنم آواز