خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 747 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 747

خطبات طاہر جلد ۱۱ 747 خطبه جمعه ۲۳/اکتوبر ۱۹۹۲ء میں پڑھنا آپ کی اندرونی کیفیات کو جگا دیتا ہے آپ کے اندر تموج پیدا کرتا ہے اور اس تموج کے ساتھ قرآن کریم کے مطالب ہم آہنگ ہو کر پھر آپ کے لئے نئے نئے مضمونوں کے گل کھلاتے ہیں، نئی روشنی عطا کرتے ہیں۔تو نماز کا بھی یہی حال ہے۔نماز کو اگر دل ڈال کر پڑھیں گے تو نماز کی بھی یہی کیفیت ہوگی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کلام کو اگر ترنم سے پڑھیں گے تو وہاں بھی یہی کیفیت ہوگی۔حضرت مصلح موعود جب نماز پڑھاتے تھے تو آپ کی آواز میں ترنم بھی تھا اور سوز بھی تھا اور پڑھنے والا آپ کے پیچھے جو نماز پڑھا کرتا تھا اسے صرف ظاہری روحانی لذت حاصل نہیں ہوتی تھی بلکہ نئے نئے مطالب اور عرفان اسے حاصل ہوتے تھے۔چنانچہ ایک دفعہ جب حضور لا ہور تشریف لے گئے تو شیخ بشیر احمد صاحب مرحوم کے گھر ٹھہرے ہوئے تھے اور وہیں نمازیں پڑھایا کرتے تھے ان دنوں میں جلسے کے ایام تھے اور غیر مبائعین کا جلسہ ہو رہا تھا تو ایک غیر مبائع دوست جولا ہوری جماعت کے رکن تھے وہ دن کو تو جلسہ وہاں سُنا کرتے تھے لیکن مغرب اور عشاء کی نمازوں اور صبح کی نماز پر یہیں شیخ بشیر احمد صاحب کے گھر پہنچا کرتے تھے ان سے کسی نے پوچھا کہ آپ یہ کیا حرکت کر رہے ہیں جلسہ وہاں سنتے ہیں کھانا وہاں کھاتے ہیں اور نماز پڑھنے دوسری طرف چلے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کچی بات یہ ہے کہ کھانے کا مزہ لاہوریوں کے ہاں اور نماز کا مزہ ان کے ہاں ہے اور نماز کا جومزہ مجھے میاں صاحب (حضرت خلیفہ اسیح الثانی کو میاں صاحب کہتے تھے ) کے پیچھے ملتا ہے اس کا عشر عشیر بھی وہاں نہیں ملتا۔پس نماز کا مزہ حقیقت میں عرفان سے ملتا ہے اور ترنم اس کی مدد کرتا ہے۔چنانچہ نماز میں جو بعض نمازیں اونچی آواز سے پڑھائی جاتی ہیں تو ان میں یہ بھی ایک فلسفہ ہے۔اللہ اکبر کہنے میں بھی ترنم ہوتا ہے ویسے تو ہر نماز میں بھی ترنم کا کچھ حصہ پایا جاتا ہے لیکن کئی نمازیں ایسی ہیں جن میں ترنم کا اختیار کرنا ضروری ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کلام کی بات ہو رہی تھی وہاں جب ایک آدمی کو ایک اچھی آواز میں کلام پڑھتے اور سنتے ہیں تو محض کانوں تک مزہ نہ رہنے دیا کریں۔اسے دل میں اُتارا کریں اسے دماغ میں رچایا بسایا کریں پھر اللہ تعالیٰ کے فضل سے نئے نئے مضمون آپ کے دل سے آپ کے دماغ سے خود بخود پھوٹیں گے۔پس ”من یرانی “ کا مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ جسے میں دیکھتا ہوں تو وہ پھر مجھے دیکھتا ہے اور میں ہمیشہ اس خیال میں رہتا ہوں کہ مجھ سے کوئی حرکت ایسی نہ ہو جو خدا کے ادب کے خلاف ہو اور اس کے