خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 744
خطبات طاہر جلداا 744 خطبه جمعه ۲۳ راکتو بر ۱۹۹۲ء پر واہ ہیں کہ مسجد میں سر ڈھانپ کر جانا چاہئے ٹوپی پہن کر جانا چاہئے اسی طرح کی شکایتیں ربوہ سے بھی ملیں اور ربوہ کے ایک دوست نے ایک دفعہ لکھا کہ آپ جلدی آجائیں کیونکہ آپ کے جانے کے بعد بہت سے نقصانات ہو رہے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اسلامی آداب اور اخلاق جن کے متعلق پہلے بہت ہی پابندی کی جاتی تھی اب ان کا رعب اٹھتا جا رہا ہے اور لوگ بے پرواہ ہو گئے ہیں اس خط کے نتیجہ میں مجھے خیال آیا کہ سب سے پہلے تو بنیادی حقیقت کی طرف متوجہ کرنا ضروری ہے۔ ایک انسان کہاں تک دنیا میں ہر جگہ موجود رہ سکتا ہے اگر میں ربوہ میں بھی ہوتا تو ربوہ کی ساری مساجد پر میری نظر کیسے پڑسکتی ہے۔ جس مسجد میں میں نماز پڑھتا تھا اس مسجد میں عام طور پر حاضری دوسری مساجد سے بہتر ہوتی تھی مگر ربوہ کا غالبا سوواں حصہ آبادی ہوگی یا شاید اس سے بھی کم جو اس مسجد سے استفادہ کرتی تھیں۔ تو کہاں تک انسانی نظر لوگوں کو ان کی حدود میں رکھنے پر آمادہ کر سکتی ہے یا انسانی نظر کا خیال کسی کو اپنے طرز عمل کو بہتر بنانے پر آمادہ کر سکتا ہے۔ اصل بنیادی حقیقت یہ ہے کہ خدا کا تصور ایک ایسا زندہ تصور جو ہمیشہ تمہارے ساتھ ہو اور ہر آن تم پر نگاہ رکھتا ہو اسے دلوں میں جاگزیں کرنے کی ضرورت ہے اور نماز کا اس سے بہت گہرا تعلق ہے کیونکہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو تو بہترین نماز یہ ہے کہ تم گویا خدا کو دیکھ رہے ہو کہ وہ تمہارے سامنے کھڑا ہے اور اگر اس کی توفیق نہیں تو کم سے کم خدا کی نظر میں رہو اور سمجھو کہ خدا تمہیں دیکھ رہا ہے۔ پس لباس خواہ ٹوپی ہو یا کوئی اور لباس اس کا تعلق اس احساس سے ہے کہ میں کیا ہوں اور کس کے سامنے ہوں ۔ بعض لوگ جو ٹوپی کے متعلق کہتے ہیں کہ کیا ضرورت ہے لیکن مغرب میں جب ٹوپی کا استعمال مغربی اقدار کے مطابق ہوتا ہے تو اس کی پابندی کرتے ہیں۔ ایک حج جب کرسی عدالت پر بیٹھتا ہے تو ہمیشہ سرکوڈھانپ کر بیٹھتا ہے اور کسی کی مجال نہیں کہ حج کے سامنے ٹوپی پہن کر بیٹھے ۔ ہمارے بچوں کو یہ کیوں خیال نہیں آتا کہ اسکی کیا ضرورت تھی ؟ ٹوپی اتار کے کیوں نہیں بیٹھتا ؟ تو وجہ یہ ہے کہ ٹوپی عزت کا ذریعہ سمجھی جاتی ہے اور ٹوپی کو سر پر لینے میں خواہ وہ ٹوپی یا کوئی اور لباس انسان کی عزت اور وقار کا مفہوم شامل ہے۔ حج کے سامنے آپ اس لئے ٹوپی نہیں پہن سکتے کہ گویا اس عدالت عالیہ کی ہتک ہو گی کہ اس کی عزت میں سارے شریک ہیں پس اسے عزت کے مقام پر بٹھایا جاتا ہے اور باقی سب لوگوں کی عزت سروں سے اتاری جاتی ہے لیکن